نئی دہلی، 17 فروری (یو این آئی)سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو نے برسراقتدار بھارتیہ جنتا پارٹی پر شدید تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ 2017 کے بعد سے اتر پردیش میں امن و امان، روزگار، سماجی ہم آہنگی اور طرزِ حکمرانی میں نمایاں گراوٹ آئی ہے ۔اپنے واٹس ایپ چینل پر جاری ایک تفصیلی پیغام میں یادو نے بی جے پی حکومت پر الزام لگایا کہ ریاست میں جرائم، بے روزگاری اور سماجی بے چینی میں اضافہ ہوا ہے ۔انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے دورِ حکومت میں اتر پردیش جرائم اور بدعنوانی کا گڑھ بن چکا ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ 2017 سے اتر پردیش انتشار کی حالت میں ہے ۔ سابق وزیرِ اعلیٰ نے دعویٰ کیا کہ جرائم پیشہ عناصر اور جبراً وصولی کے خوف نے ریاست کے بعض حصوں میں کرفیو جیسا ماحول پیدا کر دیا ہے ۔ انہوں نے الزام لگایا کہ پورے اتر پردیش میں غیر قانونی عناصر کا راج ہے اور لوگ سکیورٹی پر سوال اٹھانا چھوڑ چکے ہیں کیونکہ بی جے پی حکومت سے کوئی توقع باقی نہیں رہی۔انہوں نے مزید کہا کہ کمیشن خور ہی حکومت چلا رہے ہیں۔ موجودہ انتظامیہ کو بے بصیرت قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے دور میں اتر پردیش میں امن نہیں، ہر طرف بے چینی ہے ۔
انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ ریاست عملاً ”ایک ریاست، ایک مافیا” میں بدل چکی ہے اور حکمرانی ”بدانتظامی” کا شکار ہے ۔