ڈی جی پی کی نمائندگی پر حکومت سے احکامات کی اجرائی
حیدرآباد : /9 نومبر (سیاست نیوز) ٹی آر ایس ارکان اسمبلی خریدنے کے معاملہ مزید طول پکڑتا جارہا ہے کیونکہ آج حکومت نے اس کیس کی تحقیقات کیلئے خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) تشکیل دی ہے ۔ اس سلسلہ میں ایک جی او بھی جاری کیا گیا ہے ۔ تفصیلات کے مطابق ڈائرکٹر جنرل پولیس تلنگانہ نے ٹی آر ایس ارکان اسمبلی کو خریدنے کی کوشش اور اس الزام میں گرفتار 3 ملزمین کے خلاف معین آباد پولیس اسٹیشن میں درج کئے گئے مقدمہ کی خصوصی تحقیقات کیلئے حکومت کو مکتوب روانہ کیا تھا ۔ ڈی جی پی نے حکومت کو یہ واقف کروایا تھا کہ ارکان اسمبلی کو خریدنے کا معاملہ انتہائی حساس اور سنسنی خیز ہے ۔ چنانچہ اس کی تحقیقات کیلئے فارنسک اور دیگر تحقیقاتی ماہرین کے ذریعہ کروائی جائے ۔ حکومت نے ڈی جی پی کی درخواست پر ایک جی او جاری کرتے ہوئے خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور تحقیقاتی ٹیم کی نگرانی پولیس کمشنر حیدرآباد سی وی آنند کے ذریعہ کروانے کا اعلان کیا ہے ۔ ایس آئی ٹی میں سپرنٹنڈنٹ آف پولیس نلگنڈہ شریمتی رما راجیشوری ، کملیشوری شنگینوار ڈی سی پی کرائمس سائبر آباد ، آر جے جگدیشور ریڈی ڈی سی پی شمس آباد ، این وینکٹیشورلو سپرنٹنڈنٹ آف پولیس نارائن پیٹ ، بی گنگادھر اسسٹنٹ کمشنر آف پولیس راجندر نگر ڈیویژن اور لکشمی ریڈی انسپکٹر معین آباد پولیس اسٹیشن شامل ہیں ۔ حکومت نے ایس آئی ٹی کو یہ اختیار دیا ہے کہ اس کیس کی تحقیقات کیلئے وہ مزید پولیس عہدیداروں کی خدمات کو حاصل کرسکتی ہیں تاکہ جلد از جلد اس کیس کی تحقیقات مکمل کی جائے ۔ واضح رہے کہ /26 اکٹوبرکو معین آباد پولیس نے عزیز نگر علاقہ میں واقع ایک فارم ہاؤز پر دھاوا کرتے ہوئے بی جے پی کے 3 مبینہ ایجنٹس کو گرفتار کیا تھا جنہوں نے ٹی آر ایس کے 3 ارکان اسمبلی بشمول تانڈور ایم ایل اے ، پائیلٹ روہیت ریڈی کو کروڑہا روپئے کے عوض بی جے پی میں شامل ہونے کی لالچ دی تھی ۔ ب