نیتن یاہو کی مشکلات میںاضافہ، عرب جماعتوں کی تاریخی کامیابی
تل ابیب۔29؍اکتوبر( ایجنسیز )اسرائیل میں پارلیمانی انتخابات کے بعد نئی حکومت کی تشکیل کیلئے سیاسی سرگرمیاں تیز ہوگئیں ہیں۔ یاشار پارٹی کے سربراہ گادی آئزنکوٹ نے سابق وزیراعظم اور بی یاخاد پارٹی کے چیئرمین نفتالی بینیٹ سے ملاقات کی ہے۔اسرائیلی میڈیا کے مطابق دونوں رہنماؤں کی ملاقات اسرائیلی شہر رعنانا میں نفتالی بینیٹ کی رہائش گاہ پر ہوئی۔ملاقات کے بعد جاری مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ دونوں رہنماؤں نے اسرائیل میں جلد از جلد ایک اچھی حکومت قائم کرنے کی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا۔خیال رہے کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان یہ ملاقات ایسے وقت ہوئی ہے جب اسرائیلی انتخابات کے جزوی نتائج کے مطابق وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے اتحاد کو 53 جبکہ گادی آئزنکوٹ کے زیر قیادت اپوزیشن اتحاد کو 48 نشستیں ملنے کا امکان ہے۔دوسری جانب عرب جماعتوں کی مجموعی 19 نشستیں نئی حکومت کی تشکیل میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں تاہم اس کیلئے مختلف سیاسی جماعتوں کے درمیان اتفاق رائے ضروری ہوگا۔واضح رہے کہ اسرائیل میں حکومت بنانے کیلئے 120 رکنی پارلیمنٹ کنیسٹ میں کم از کم 61 ارکان کی حمایت درکار ہوتی ہے۔جوائنٹ لسٹ کے مطابق عرب شہریوں نے غیرمعمولی تعداد میں ووٹ ڈال کر تاریخی کامیابی حاصل کی ہے جسے کوئی منفی مہم ختم نہیں کرسکتی۔انتخابات کے جزوی نتائج کے مطابق نیتن یاہو کے اتحاد کو 53 نشستیں ملنے کا امکان ہے جبکہ گادی آئزنکوٹ کے زیر قیادت اپوزیشن اتحاد کو 48 نشستیں حاصل ہوسکتی ہیں۔دوسری جانب جوائنٹ لسٹ اور عرب جماعت رعام کی مجموعی 19 نشستیں اپوزیشن کیلئے فیصلہ کن ثابت ہوسکتی ہیں۔ اگر دونوں عرب جماعتیں آئزنکوٹ کے اتحاد سے تعاون کریں تو انہیں مجموعی طور پر 67 ارکان کی حمایت حاصل ہوسکتی ہے جو حکومت سازی کیلئے درکار 61 نشستوں سے زیادہ ہے۔اسرائیلی میڈیا کے مطابق جوائنٹ لسٹ نے اپنے بیان میں کہا کہ دائیں بازو کے سیاست دان انتخابی نتائج تسلیم کرنے کیلئے تیار نہیں اور عرب ووٹرز کے خلاف جھوٹے الزامات اور اشتعال انگیز مہم چلا رہے ہیں۔