تہران : ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ہم امن چاہتے ہیں لیکن اگر اسرائیل نے جوابی حملے کئے تو ہمارا جواب مزید سخت ہو گا۔پزشکیان، ایشیاء تعاون ڈائیلاگ سربراہی اجلاس میں شرکت کے لئے، قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ہیں اور اپنی مصروفیات کے دوران انہوں نے قطر کے امیر شیخ تمیم بن حامد الثانی کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کی ہے۔ایران کے علاقائی موقف کے بارے میں پزشکیان نے کہا ہے کہ “ہم، خونریزی کی قطعی مخالفت کرتے ہیں۔ ہم ہمیشہ سے کہتے چلے آ رہے ہیں کہ ہم امن کے خواہشمند ہیں۔ ہم کسی بھی ملک میں خونریزی نہیں چاہتے لیکن اسرائیل ہمیں اس پر مجبور کر رہا ہے”۔دارالحکومت تہران میں حماس کے لیڈر اسماعیل ھنیہ پر قاتلانہ حملے کے بارے میں انہوں نے کہا ہے کہ “اسرائیل نے ہمارے مہمان پر قاتلانہ حملہ کر کے ہمیں جوابی کاروائی پر مجبور کر دیا ہے۔ یہ حملہ میری صدارتی حلف برداری تقریب کی شام کیا گیا ہے۔ اسے کوئی بھی ملک اور کوئی بھی فریق قبول نہیں کر سکتا۔ کوئی بھی علاقہ جنگ کے سائے میں نہ تو ترقی کر سکتا ہے اور نہ ہی پْر امن زندگی گزار سکتا ہے”۔اسرائیل کی طرف سے ایران پر جوابی حملے کے احتمال کے بارے میں صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ “اگر اسرائیل نے جواب دیا تو ہمارا جواب مزید سخت ہو گا”۔علاقے میں اسرائیلی کاروائیوں اور اس عرصے میں مغرب کے کردار پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ ایران نے، اسرائیل کی جارحانہ پالیسیوں کے مقابل ، آج تک پْر امن موقف کا اظہار کیا ہے لیکن اسرائیل نے انتہائی اشتعالی کاروائیوں اور قتل عاموں میں اضافہ کر دیا ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ “وہ کہتے ہیں کہ ان حملوں کا ہرگز جواب نہ دیں اگر جواب دیا تو یہ جنگ پھیل جائے گی۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہم جتنا تحمل دِکھاتے رہے ان کے قتل عاموں میں اتنی ہی شدّت پیدا ہوتی چلی گئی۔ عالمی تاریخ پر نگاہ ڈالیں تو ایسا تناو کبھی دیکھنے میں نہیں آیا۔ میں دوبارہ کہتا ہوں کہ ہم امن چاہتے ہیں۔ اس تناو کے پورے علاقے میں پھیلاو کے خواہش مند نہیں ہیں۔ میں مغرب سے کہنا چاہتا ہوں کہ :برائے مہربانی اسرائیل کو پیچھے ہٹائیں۔ اسرائیل کو اس علاقے کے اندر تک آپ نے گھْسایا ہے۔ اس خونریزی میں آپ کا بھی ہاتھ ہے”۔