23 ستمبر سے حزب اللہ کے اہداف پر فضائی حملوں میں اضافہ ،فرانسیسی وزیرخارجہ کا دورہ لبنان،جنگ رکوانے کوشاں
تل ابیب: اسرائیلی ویب سائٹ ’’ویلا‘‘ نے آج پیر کے روز اسرائیلی ذمہ داران کے حوالے سے بتایا ہے کہ اسرائیلی فوج لبنان میں زمینی حملے کی تیاری کر رہی ہے۔ اس سلسلے میں اہم کارروائیاں مکمل کی جا رہی ہیں۔مذکورہ اسرائیلی ذمہ داران کے مطابق ‘فوج نے حزب اللہ کی تیاریوں کے حوالے سے درست انٹیلی جنس معلومات جمع کر لی ہیں۔ فوج میں اس بات پر اتفاق ہے کہ لبنان میں زمینی حملہ وقت کی بات ہے ۔ا ھر اسرائیلی فوج نے پیر کے روز ایک بیان میں اعلان کیا ہے کہ اس کی فضائیہ نے لبنان میں البقاع کے علاقے میں حزب اللہ کے درجنوں اہداف پر حملے کیے ہیں۔ مزید یہ کہ اسرائیلی لبنانی سرحد کے نزدیک اسرائیلی ٹینک اکٹھے ہو رہے ہیں۔اس سے قبل اسرائیل نے آج پیر کو علی الصباح بیروت کے اندر ایک رہائشی عمارت کو ڈرون طیارے کے ذریعے نشانہ بنایا۔ اس کے نتیجے میں چار افراد ہلاک ہو گئے۔ گذشتہ برس غزہ کی پٹی میں جنگ چھڑنے کے بعد یہ پہلا موقع ہے جب اسرائیل نے بیروت کے وسط میں حملہ کیا۔لبنانی وزارت صحت نے اعلان کیا تھا کہ اتوار کے روز اسرائیلی حملوں میں 105 افراد ہلاک اور 359 زخمی ہو گئے۔سات اکتوبر کو اسرائیل پر حماس کے غیر معمولی حملے کے بعد حزب اللہ نے بھی لبنان میں لڑائی کا دروازہ کھول دیا۔ اس پیشرفت کو غزہ کیلئے ’’امدادی محاذ‘‘ کا نام دیا گیا۔ تقریبا ایک برس تک سرحد پار بم باری کے تبادلے کے بعد اسرائیل نے 23 ستمبر سے حزب اللہ کے اہداف پر فضائی حملوں کو شدید کر دیا ہے۔ گذشتہ پیر سے لبنان پر اسرائیلی حملوں میں اب تک سیکڑوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ اس روز ہونے والی ہلاکتیں 1975 سے 1990 تک کی خانہ جنگی کے بعد لبنان میں ایک دن کے اندر مرنے والوں کی سب سے بڑی تعداد ہے۔فرانس کے وزیر خارجہ اتوار کی شام لبنان پہنچے۔ اسرائیلی حملوں میں شدت آنے کے بعد وہ پہلے غیر ملکی اعلیٰ سفارت کار ہیں جو لبنان کا دورہ کر رہے ہیں۔ اسرائیل اپنے حملوں میں ایران نواز تنظیم حزب اللہ کو نشانہ بنا رہا ہے۔فرانسیسی وزیر خارجہ نے لبنانی وزیر اعظم نجیب میقاتی کو آگاہ کیا کہ پیرس حکومت اسرائیلی حملوں کو فوری طور پر رکوانے کی کوشش کر رہی ہے۔ لبنان پر اسرائیل کی بے قابو جارحیت نے مشرق وسطیٰ میں ایک وسیع جنگ چھڑنے کے اندیشے پیدا کر دیئے ہیں۔