اسرائیلی مظاہرین کا پولیس کے ساتھ تصادم

   

تل ابیب : ہزاروں اسرائیلی مظاہرین نے وزیر اعطم نیتن یاہو کے خلاف اکٹھے ہو کر جمعرات کے روز سخت احتجاج کیا ہے۔ یہ مظاہرین شین بیت چیف کی برطرفی کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔ شین بیت سربراہ کے حق احتجاجی مظاہروں کا تیسرا دن تھا۔اسرائیلی پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے ‘واٹر کینن’ استعمال کیے اور متعدد کو حراست بھی لے لیا۔ یہ ہزاروں مظاہرین جمعرات کے روز تل ابیب میں نیتن یاہو کی رہائش کے قریب پہنچ گئے تھے۔پولیس کا کہنا ہے کہ احتجاج کرنے والے درجنوں مظاہرین نے سیکیورٹی کی ضرورت کے لیے قائم کردہ رکاوٹوں کو توڑنے کی کوشش کی۔شین بیت کے چیف کی برطرفی کے علاوہ یہ مظاہرین اس وجہ سے بھی احتجاج کر رہے تھے کہ اسرائیلی قیدیوں کی غزہ میں دوبارہ جنگ شروع ہوجانے کے خلاف بھی احتجاج کر رہے تھے۔یروشلم میں 59 سالہ رینات حداشی نے کہا ہم بہت بہت پریشان ہیں کہ اسرائیل ایک آمریت والی ریاست بن رہا ہے۔ ہمارے آمر حکمران اسرائیلی قیدیوں کو بھی برباد کر دینا چاہتے ہیں۔وہ ملک کی ہر اہم چیز کو نظر انداز کر رہے ہیں۔یاد رہیاس ہفتے نیتن یاہو نے کہا تھا کہ ان کا شین بیت پر سے اعتماد ختم ہو چکا ہے۔ جو 2021 سے شین بیت کا سربراہ چلا آرہا ہے۔ اس لیے میں اسے برطرف کر دوں گا۔ نیتن یاہو کے اس اعلان پر احتجاج شروع ہو گیا ، مگر یاہو نے شینبیت کے سربراہ کو ہٹا دیا۔اس سے پہلے کئی ماہ تک نیتن یاہو کے کئی ساتھیوں کے خلاف کرپشن کی تحقیقات کے مسئلہ پر تنازعہ چلتا رہا۔ یہ تحقیقات نیتن یاہو کے دفتر رشوت کی پیش کش کے سلسلے میں ہیں۔ جن کا قطر سے تعلق جوڑا جارہا ہے۔ کہ قطر سے منسلک شخصیات نے وزیر اعظم کے دفتر کے کئی معاونین کو رشوت کی پیش کش کی تھی۔لیکن شین بیت کوہٹائے جانے کی وجوہات در اصل سیاسی بنی ہیں۔ لیکن اس پر نیتن یاہو کے مخالفین ان پر سخت تنقید کر رہے ہیں کہ وہ ایسے اقدامات سے اداروں اور جمہوریت کو کمزور کر رہے ہیں۔شین بیت کی طرف سے حکومت کے لیے تقسیم اکیے گئیایک خط میں شین بیت نے اپنی برطرفی کے اقدام کو بے بنیاد اور بلا جواز قرار دیا گیا ہے۔

شین بیت سربراہ کی برطرفی منظور
تل ابیب : اسرائیلی حکومت نے جمعہ کے روز اپنے انٹیلی جنس ادارے شین بیت کے سربراہ کی برطرفی کی بالآخر منظوری دے دی ہے۔ شین بیت سربراہ کی برطرفی کا نیتن یاہو نے پہلے سے اعلان کر رکھا تھا، تاہم وہ اپنے عہدہ سے 10 اپریل کوباضابطہ الگ ہو جائیں گے۔شین بیت سربراہ رونین بار کی برطرفی کا یہ فیصلہ کر لیا ہے۔