بانی جامعہ نظامیہ کے عرس کے موقع پر جلسہ تقسیم اسناد و خلعت ، مولانا مفتی خلیل احمد شیخ الجامعہ کا خطاب
حیدرآباد ۔ 15 ۔ دسمبر : ( سیاست نیوز) ۔ برصغیر کی عظیم دینی درسگاہ جامعہ نظامیہ میںسالانہ جلسہ تقسیم اسناد وخلعت اور دستار بندی کا شاندار پیمانے پر 14 دسمبر 2023 کو انعقاد عمل میں آیا۔ مذکورہ جلسہ کا انعقاد شیخ الاسلام امام محمد انوار اللہ فاروقی علیہ الرحمہ بانی جامعہ نظامیہ کے عرس کے موقع پر عمل میںلایاجاتا ہے۔ اس جلسہ کی نگرانی امیر جامعہ مولانا سید شاہ علی اکبر نظام الدین حسینی صابری نے کی جبکہ مولانا مفتی خلیل احمد شیخ الجامعہ جامعہ نظامیہ نے صدارت کی ۔ مختلف علوم وفنون میں کامیابی حاصل کرنے والے طلبہ میں امیر جامعہ مولانا سید شاہ اکبر نظام الدین حسینی صابری کے ہاتھوں دستار بندی اور اسناد کی تقسیم عمل میںلائی گئی۔سالانہ جلسہ سے اپنے خطاب میں مولانا مفتی خلیل احمد نے کہا کہ اسلام کی حقیقت اور دین کی صحیح تعلیمات کو پیش کرنا ہماری ذمہ داری ہے ۔ دینی جامعات میں سالانہ جلسے کرنا انعامات کی تقسیم کرنا خلعت و دستار بندی کا انعقاد کرنا نوجوان علماء کی ہمت افزائی ہے اور اس طرح سے لوگوں کو بھی ترغیب دی جارہی ہے ۔ موجودہ دور میں علماء کے لیے ضروری ہے کہ وہ فتنوں اور اسلام اور مسلمانوں کے خلاف اعتراضات کا جواب دینے کے لیے خود کو تیار کریں ۔ انہوں نے کہا کہ اسلامی تعلیمات کا فروغ صرف عبادت سے یا صرف دولت سے نہیں کیا جاسکتا ۔ عبادت سے قرب خداوندی حاصل ہوتی ہے ۔ دولت کا صحیح استعمال ہو تو یہ علم کے فروغ کا ذریعہ ہوسکتا ہے لیکن فتنوں اور اعتراضات کا جواب علم و حکمت سے دینے کی ضرورت ہے ۔ سوال کرنے والے اور اعتراضات کرنے والوں کا جواب عبادت اور زہد سے نہیں دیا جاسکتا ۔ اس کا جواب سوال کی طرح دینا ہوگا ۔ مفتی خلیل احمد نے کہا کہ امام اعظم ابوحنیفہ ؒ کے دور میں بعض گمراہ فرقے شروع ہوئے اور اعتراضات کا آغاز ہوا ۔ ایک دہریہ نے امام اعظم ؒ سے سوال کیا کہ اللہ سب سے پہلے اور قدیم ہے تو اللہ سے پہلے کون اور کیا ہے ۔ اس اعتراض کا جواب امام اعظمؒ نے علم و حکمت کے ذریعہ دیا اور کہا کہ ہندسوں کی گنتی کی جاتی ہے تو ایک سے پہلے کیا گنتی ہے اس کا جواب دیا جائے ۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اللہ نے مخلوق کو پیدا کیا تو مخلوق سے پہلے کی ابتداء کوئی نہیں بتا سکتا تو خالق حقیقی سے قبل کیا ہے کوئی نہیں بتا سکتا ۔ ان سے پھر سوال کیا گیا کہ پھر چاروں سمتوں میں روشنی ہے تو اس کا رخ کس کی طرف ہے ۔ تو امام اعظم ؒ نے ارشاد فرمایا جب نور مجازی کا رخ متعین نہیں کیا جاسکتا تو نور حقیقی کی سمت کیسے متعین کی جاسکتی ہے ۔ دہریہ نے ایک اور سوال کیا کہ اللہ اس وقت کیا کررہا ہے ۔ تو آپؒ نے ارشاد فرمایا کہ تو سائل ہے نیچے اتر جا اور آپؒ جواب دینے کے لیے اوپر چڑھ گئے اور ارشاد فرمایا کہ اللہ نے تجھے ذلت دی اور مجھے عزت دے رہا ہے ۔ اس طرح کے مناظرے اور مکالمات صحیح تاریخ سے ثابت ہیں ان کے دہرانے کا مقصد علم و حکمت کے ذریعہ جواب دینے کو ثابت کرتا ہے ۔ مفتی خلیل احمد نے کہا کہ جامعہ نظامیہ کے قیام کے 152 سال مکمل ہوچکے ہیں ۔ بانی جامعہ نے اسے کسی گروپ یا فرد کے لیے قائم نہیں کیا بلکہ اسے ملت کے لیے وقف کرتے ہوئے ملت کے حوالے کردیا ۔ حضرت فضیلت جنگ ؒ نے دائرۃ المعارف العثمانیہ کا قیام کیا جس کی وجہ سے دنیا بھر میں حیدرآباد کی علمی شناخت ہوئی اور مجلس احیاء المعارف النعمانیہ کا قیام عمل میں لایا۔اس موقع پر مولانا ڈاکٹر محمد سیف اللہ نائب شیخ الجامعہ نے تعلیمی رپورٹ پیش کی ۔مولوی احمد محی الدین خان معتمد جامعہ نظامیہ نے سالانہ مالیاتی رپورٹ پیش کی اور بتایا کہ جامعہ نظامیہ محدود ذرائع آمدنی کے باوجود بہترین تعلیمی خدمات انجام دے رہا ہے جو کہ ایک کارنامہ ہے ۔ انہوں نے جامعہ کے مختلف شعبوں کا تعارف کروایا اور ریسرچ سنٹر کا بھی تذکرہ کیا اور بتایا کہ ریسرچ اسکالرس کے لیے بھی شعبہ تحقیق میں وظائف دئیے جارہے ہیں ۔ سالانہ جلسہ میں مختلف طلباء کو گولڈ میڈلس دئیے گئے ان میں سید جابر اشرف ، سید شہباز ، سید امین الدین حسینی ، محمد عبدالحنان شعیب ، بتول فاطمہ ، سید ابوبکر ، محمد عمران ، محمد وسیم ، محمد متین ، سیدہ حشمت النساء ، زینب ساجد ، سیدہ عفیفہ کوکب شامل ہیں ۔ اس موقع پر امیر جامعہ اور شیخ الجامعہ کے ہاتھوں مجلہ انوار نظامیہ اردو ، مجلۃ الانوار عربی ، مقاصد الاسلام گیارواں حصہ ، انوار محمدی انگریزی ترجمہ ، زجاجتہ المصابیح حصہ چہارم انگریزی ترجمہ ، مجلس احیاء المعارف النعمانیہ عربی ، دیوان شاہ خاموشؒ ہندی اور احسن التجوید نامی کتابوں کی رسم اجراء بھی عمل میں آئی ۔ مولانا محمد خالد علی قادری نائب شیخ الادب نے تذکرہ بانی جامعہ نظامیہ عنوان پر خطاب کیا ۔ مولانا محمد انوار احمد قادری نائب شیخ التفسیر نے کارروائی چلائی اور ان کے شکریہ پر جلسہ کا اختتام عمل میںآیا۔