اسلامی قوانین کو سمجھے بغیر انہیں مسترد کرنا ’’تکبر‘‘کی علامت : طالبان

,

   

مردوں کے لباس، نماز، جانداروں کی تصاویر، ہم جنس پرستی اور عوامی مقامات پر موسیقی کے قوانین نمایاں

کابل:طالبان حکام نے اپنے حالیہ اخلاقی قوانین پر عالمی تنقید کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ اسلامی قوانین کو سمجھے بغیر انہیں رد کرنا تکبر کو ظاہر کرتا ہے۔ وزارت انصاف کی طرف سے اعلان کردہ 35 آرٹیکلز پر مشتمل قوانین کے تحت خواتین کو مکمل پردہ کرنے اور عوامی مقامات پر اپنی آواز بلند نہ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ خواتین کی نقل و حرکت اور رویوں کو محدود کرنے والے دیگر قوانین بھی شامل ہیں۔ ان قوانین میں مردوں کے لباس، نماز میں شرکت کے اصولوں کے ساتھ ساتھ جانداروں کی تصاویر رکھنے، ہم جنس پرستی، جانوروں کی لڑائی، اور عوامی مقامات پر موسیقی بجانے پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے۔ اقوام متحدہ، انسانی حقوق کی تنظیموں اور افغان شہریوں نے اس پر تشویش کا اظہار کیا ہے کہ یہ قوانین طرز زندگی اور رویوں پر مزید سختی سے عمل درآمد کا سبب بنیں گے۔ طالبان حکام کے اقتدار میں آنے کے بعد سے یہ قوانین غیر رسمی طور پر موجود تھے، لیکن اب انہیں باقاعدہ قانون کی شکل دی گئی ہے۔ چیف ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ قوانین اسلامی تعلیمات کی بنیاد پر ہیں اور انہیں سمجھنا اور احترام کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا بغیر سمجھے ان قوانین کو رد کرنا ہمارے نزدیک تکبر کا مظاہرہ ہے۔ مزید برآں کسی مسلمان کے لیے اس قانون پر تنقید کرنا ان کے ایمان کے کمزور ہونے کا باعث بن سکتا ہے۔ یورپی یونین نے اپنے ردعمل میں کہا کہ وہ اس فرمان سے حیرت زدہ ہے، جو افغان شہریوں کی زندگیوں پر مزید سخت پابندیاں لگاتا ہے۔ یورپی یونین کے خارجہ پالیسی کے سربراہ جوزپ بوریل نے کہا کہ یہ فیصلہ افغان خواتین اور لڑکیوں کے حقوق پر ایک اور سنگین ضرب ہے، جسے برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ بوریل نے طالبان سے اپیل کی کہ وہ افغان خواتین اور لڑکیوں کے خلاف منظم ظلم و ستم کا خاتمہ کریں، اور خبردار کیا کہ یہ صنفی بنیادوں پر تشدد کے مترادف ہو سکتا ہے، جو بین الاقوامی قانون کے تحت انسانیت کے خلاف جرم ہے۔ طالبان حکومت نے اپنی پالیسیوں پر ہونے والی بین الاقوامی تنقید کو ہمیشہ مسترد کیا ہے، خاص طور پر خواتین پر پابندیوں کو، جسے اقوام متحدہ نے انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ نئے قانون کے تحت عدم تعمیل کی صورت میں سزائیں مقرر کی گئی ہیں، جن میں جرمانے اور مختلف مدت کی قید شامل ہیں۔ ان قوانین کا نفاذ وزارت برائے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے تحت کیا جائے گا۔ ذبیح اللہ مجاہد نے قانون کے نفاذ کے حوالے سے خدشات کو رد کرتے ہوئے کہا کہ کسی کے حقوق کی خلاف ورزی نہیں کی جائے گی اور کسی کے ساتھ ناانصافی نہیں ہوگی۔ قبل ازیں نائب حکومتی ترجمان حمد اللہ فطرت نے کہا کہ یہ قوانین مشاورت اور رہنمائی کے ذریعہ نرم طریقہ سے نافذ کیے جائیں گے۔
طالبان حکومت نے حال ہی میں اعلان کیا ہے کہ پولیس اسلامی قانون کے نفاذ میں مزید فعال کردار ادا کرے گی۔ اقوام متحدہ کی جولائی میں جاری کردہ ایک رپورٹ میں طالبان پر ’’خوف کی فضا‘‘ پیدا کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ افغانستان میں اقوام متحدہ کے امدادی مشن کی سربراہ روزا اوتن بائیفا نے اس قانون کو ‘‘افغانستان کے مستقبل کیلئے ایک تشویشناک منظر قرار دیا ہے، جہاں اخلاقی معائنہ کاروں کو خلاف ورزیوں کی وسیع اور بعض اوقات کسی کو بھی دھمکیاں دینے اور حراست میں لینے کے بے جا اختیارات حاصل ہیں۔
اقوام متحدہ اور یورپی یونین کے بیانات میں خبردار کیا گیا ہے کہ یہ قانون بین الاقوامی برادری کے ساتھ طالبان حکومت کی مشغولیت کے امکانات کو متاثر کر سکتا ہے۔ طالبان حکومت کو اب تک کسی بھی ریاست نے تسلیم نہیں کیا ہے، لیکن حالیہ دنوں میں انہوں نے سفارتی سرگرمیوں میں اضافہ کیا ہے، جس میں قطر میں اقوام متحدہ کی میزبانی میں ہونے والے افغانستان کے حوالے سے مذاکرات میں شرکت بھی شامل ہے۔ زبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ مختلف حلقوں کی جانب سے اٹھائے جانے والے خدشات امارت اسلامیہ کے اسلامی شریعت کے نفاذ کے عزم کو متزلزل نہیں کریں گے۔