اسلامی ممالک کی طالبان کے خواتین مخالف اقدامات کی مذمت

   

نیویارک : اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) نے کہا ہے کہ خواتین کے حقوق اسلامی حقوق ہیں۔عرب نیوز کے مطابق اسلامی تعاون تنظیم نے طالبان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ خواتین کے حقوق کا احترام کیے گئے وعدوں کے مطابق کریں اور خواتین کے سیکنڈری اور کالج کی تعلیم پر پابندی کے اپنے فیصلے کو بھی واپس لیں۔نیویارک میں اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر میں خواتین کے عالمی دن کے موقعے پر ایک روزہ کانفرنس ’اسلام میں خواتین‘ کا انعقاد ہوا جس میں متعدد ممالک کے عہدیداروں اور بین الاقوامی تنظیموں کے سربراہان نے مغربی ذرائع ابلاغ پر زور دیا کہ وہ اپنی کوریج میں مسلمان خواتین سے متعلق منفی دقیانوسی تصورات پر بات کریں۔پاکستان کے وزیر خارجہ بلاول بھٹو نے کانفرنس کے موقعے پر عرب نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کانفرنس میں سب نے افغانستان کی صورتحال پر بات کی اور اس پر مایوسی کا اظہار کیا کہ افغانستان میں خواتین کو نہ صرف ان کے حقوق سے محروم رکھا گیا بلکہ حکومت ابھی تک تعلیم سے متعلق اپنے وعدوں پر عمل نہیں کر سکی۔انہوں نے کہا کہ یہ خاص طور پر بہت مایوس کن ہے کہ طالبان اسلام کو خواتین کے ساتھ اپنے سلوک کے جواز کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ اسلامی تعاون تنظیم میں شامل تمام ممالک اس بات پر متفق ہیں کہ اس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں اور قرآن کا پہلا لفظ ہی ’پڑھو‘ ہے۔اقوام متحدہ میں یمن کے نائب مستقل نمائندہ مروان علی نعمان نے طالبان کے اقدامات کو یمن میں ایرانی کی حمایت یافتہ حوثی باغیوں کے اقدامات سے موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ دونوں گروپس خواتین کی سیاسی، معاشی اور سماجی حقوق سے انکار کرتے ہیں۔برطانوی وزیر مملکت لارڈ احمد آف ومبلڈن نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ معاشرے اور ملک تب ترقی کرتے ہیں جب خواتین معاشرے کا اہم حصہ ہوں۔لارڈ احمد نے کہا کہ تمام ممالک طالبان سے خواتین کو ان کے حقوق دینے کا مطالبہ کریں اور ان سے سوال کریں کہ ’آپ کیا کر رہے ہیں؟ یہ اسلام نہیں ہے۔