کینبرا۔ نیویارک یونیورسٹی کی ایک تحقیق کے مطا بق امریکہ میں گزشتہ چار دہائیوں کے دوران وفاقی حملہ آور ہتھیاروں پر پابندی عائد ہوتی تو سینکڑوں جانیں بچائی جا سکتی تھیں۔ آسٹریلیائی میڈیا اؤٹ لیٹ دی کنورسیشن نے اس تحقیق کے حوالے سے بتایا ہے جس میں امریکہ میں بڑے پیمانے پر فائرنگ کے واقعات بارے حملہ آور ہتھیاروں پر 10 سالہ وفاقی پابندی کے اثرات کا جائزہ لیا گیا۔ مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ 1994 اور 2004 کے درمیان دس سالوں کے دوران، جب ان پر پابندی عائد تھی تو بڑے پیمانے پر فائرنگ سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد میں کمی آئی۔پابندی کی میعاد ختم ہونے کے بعد، تاہم، ملک میں تقریباً فوری طور پر اور بڑے پیمانے پر فائرنگ سے ہونے والی اموات میں اضافہ ہوا۔ اعداد و شمار کے مطابق جب حملہ آور ہتھیاروں پر پابندی فعال تھی اس وقت امریکہ میں بڑے پیمانے پر فائرنگ میں کسی شخص کی موت کا خطرہ اس مدت کے دوران 70 فیصد کم تھا ، جب کہ بڑے پیمانے پر فائرنگ کے نتیجے میں مجموعی طور پر بندوق سے ہونے والی ہلاکتوں کا تناسب بھی کم تھا، اس میں فی 10ہزار فائرنگ سے ہونے والی ہلاکتوں میں بڑے پیمانے پر فائرنگ سے ہونے والی ہلاکتیں 9 سے کم نہیں ہیں۔