اسمبلی الیکشن کے بعد پٹرول ‘ ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کا اندیشہ

   

پٹرول کی قیمت فی لیٹر 18 روپئے اور ڈیزل پر فی لیٹر 35 روپئے بڑھ سکتی ہے

حیدرآباد۔14اپریل(سیاست نیوز) ملک کی 5ریاستوں میں انتخابی نتائج کے اعلان کے ساتھ ہی پٹرول و ڈیزل کی قیمتوں میں زبردست اضافہ کا اندیشہ ہے ۔ کہا جا رہاہے کہ 5مئی کے بعد کسی بھی وقت حکومت ایندھن کی قیمتوں میںاضافہ کا فیصلہ کر سکتی ہے۔ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافہ کے نتیجہ میں جو معاشی بوجھ تیل کمپنیوں پر عائد ہورہا ہے اس کو کم کرنے حکومت کے اقدامات ناکافی تصور کئے جارہے ہیں ۔ کہا جارہا ہے کہ اگر حکومت سے اکسائز ڈیوٹی جو وصول کی جاتی ہے اسے مکمل منہاء کرنے کا فیصلہ بھی کیا جائے تو تیل کمپنیوں کو نقصان کی پابجائی ممکن نہیں ۔ تیل کی قیمتوں سے متعلق عالمی رپورٹس میں کہاگیا کہ ہندوستان میں تیل کی قیمتوں کو مستحکم رکھنے کی مساعی 5 ریاستوں میں جاری اسمبلی انتخابات کے پیش نظر ہے جبکہ تیل کمپنیوں کو ابھی سے بھاری نقصانات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ ذرائع کے مطابق نتائج کے اعلان کے ساتھ ہی پٹرول میں 18روپئے اور ڈیزل میں 35 روپئے فی لیٹر اضافہ کا خدشہ ہے۔ بتایا جاتاہے کہ عالمی بازار میں خام تیل کی قیمت میں 10 ڈالر فی بیارل کے اضافہ سے تیل کمپنیوں کو نقصان 6 روپئے فی لیٹر تک بڑھ جاتا ہے اور گذشتہ ایک ماہ میں خام تیل کی قیمتیں 77 ڈالر فی بیارل سے بڑھ کر 100ڈالر فی بیارل تک پہنچ چکی ہیں اور اس سے نمٹنے مرکزی حکومت سے اکسائز ڈیوٹی میں کمی لاتے ہوئے تیل کمپنیوں کو فائدہ پہنچانے کا فیصلہ کیا گیا ہے جو خدشہ ہے کہ اسمبلی انتخابات کے نتائج کے بعد عوام سے وصول کیا جائے گا۔i/k/3