اسمبلی اور کونسل کے مانسون سیشن کا آج سے آغاز

   

اجلاس کے ہنگامہ خیز ہونے کا امکان، حکومت واپوزیشن کی حکمت عملی کو قطعیت
حیدرآباد۔ 6 ستمبر (سیاست نیوز) تلنگانہ قانون ساز اسمبلی اور کونسل کا مانسون سیشن کل 7 ستمبر سے شروع ہوگا۔ توقع ہے کہ حکومت کے 1000 دن کی تکمیل کے پس منظر میں دونوں ایوانوں کا اجلاس ہنگامہ خیز ثابت ہوسکتا ہے۔ دونوں ایوانوں کی کارروائی کا صبح 10 بجے آغاز ہوگا اور ایجنڈہ میں وقفہ سوالات کو شامل کیا گیا ہے۔ دونوں ایوانوں میں حکومت کی جانب سے 3 رپورٹس پیش کی جائیں گی۔ حکومت اور اپوزیشن نے اجلاس کے لئے اپنی اپنی حکمت عملی کو قطعیت دے دی ہے۔ حکومت کی جانب سے 1000 دن کے کارناموں کو پیش کیا جائے گا جبکہ بی آر ایس اور بی جے پی نے حکومت کی ناکامیو کو اجاگر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ حکومت کی جانب سے دونوں ایوانوں میں قرارداد منظور کئے جانے کی تیاری کی گئی ہے جس کے تحت اسمبلی اور لوک سبھا کے لئے مقابلہ کرنے کی عمر کو 25 سے گھٹاکر 21 سال کرنے کی مرکز سے سفارش کی جائے گی۔ ایوان میں جن موضوعات کو اپوزیشن کی جانب سے موضوع بحث بنایا جاسکتا ہے ان میں سیکشن 22A کے تحت اراضیات اور جائیدادوں کی ممنوعہ فہرست میں شمولیت، پالیٹکنیک اداروں کا ینگ انڈیا اسکل یونیورسٹی میں انضمام، کسانوں کے مسائل، گوداوری اینڈ کرشنا دریاؤں کے آبی حقوق، طلبہ کے فیس ریمبرسمنٹ بقایاجات، سرکاری ملازمین کے مسائل، غیر منظم ورکرس اور آٹو ڈرائیورس کے مسائل شامل ہیں۔ اسی دوران چیف منسٹر ریونت ریڈی نے وزراء اور ارکان اسمبلی کو ہدایت دی ہے کہ وہ پابندی کے ساتھ اجلاس میں شریک ہوں اور اپوزیشن کے الزامات کا اعداد و شمار کے ساتھ جواب دیں۔ حکومت کی 1000 دن کی کارکردگی اور مختلف اسکیمات کے استفادہ کنندگان کی تفصیلات وزراء کے حوالے کی گئی ہیں۔ محکمہ جات کو ہدایت دی گئی کہ وہ وقفہ سوالات اور خصوصی مباحث کے دوران وزراء کو درکار معلومات بروقت فراہم کریں۔ اسمبلی اور کونسل کے اجلاس کے ایام کے بارے میں بزنس اڈوائزری کمیٹی فیصلہ کرے گی۔ بتایا جاتا ہے کہ اسپیکر اسمبلی پرساد کمار اور صدر نشین کونسل سکھندر ریڈی 13 ستمبر سے ساؤتھ آفریقہ کا کیپ ٹاؤن میں ہونے والی کامن ویلتھ پارلیمنٹیرین کانفرنس میں شرکت کریں گے لہذا امید کی جارہی ہے کہ 11 ستمبر کو دونوں ایوانوں کے اجلاس ملتوی کردیئے جائیں گے۔ بزنس اڈوائزری کمیٹی میں اجلاس کے ایام کے علاوہ روزانہ کے ایجنڈہ اور زیر بحث امور کو قطعیت دی جائے گی۔ حکومت نے اپوزیشن کے سیاسی حملے کا مقابلہ کرنے حکمت عملی تیار کی ہے اور چیف منسٹر ریونت ریڈی خود ایوان میں مباحث کا جواب دیں گے۔ حکومت نے قائد اپوزیشن کے سی آر کی اجلاس میں عدم شرکت کو موضوع بحث بنانے کا فیصلہ کیا ہے اور کانگریس کی جانب سے کے سی آر سے استعفی کے مانگ کی جائیگی۔ 1؍F