اسمبلی اور کونسل کے مشترکہ اجلاس میں گورنر کا خطبہ… جھلکیاں

   

حیدرآباد ۔15۔ڈسمبر (سیاست نیوز) گورنر تلنگانہ ڈاکٹر ٹی سوندرا راجن کو ریاست میں حکومت کی تبدیلی کے بعد اسمبلی اور کونسل کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کا موقع ملا۔ کے سی آر حکومت کے دوران راج بھون اور پرگتی بھون میں کشیدگی رہی اور اس وقت کی حکومت نے تکنیکی بنیادوں پر گورنر کو دونوں ایوانوں سے خطاب کی اجازت نہیں دی تھی۔ نئی اسمبلی کی تشکیل کے بعد گورنر کا خطبہ ایک روایت ہے جس کی آج تکمیل کی گئی ۔
ll بی آر ایس کے ارکان سابق اسپیکر پوچارم سرینواس ریڈی اور سابق وزیر سرینواس یادو کی قیادت میں ایوان میں داخل ہوئے اور قائد اپوزیشن کی نشست چھوڑ کر اطراف کی نشستوں پر بیٹھ گئے ۔ بی آر ایس کے ارکان اسمبلی اور کونسل پارٹی کا کھنڈوا پہنے ہوئے تھے۔ کے سی آر ناسازیٔ مزاج کے سبب اجلاس میں شرکت سے قاصر رہے جبکہ کے ٹی آر نے آخری صف میں بیٹھ کر گورنر کے خطبہ کی سماعت کی۔ سابق وزیر ہریش راؤ کی غیر حاضری کو شدت سے محسوس کیا گیا ۔
llکانگریس کے ارکان کے گلے میں پارٹی کھنڈوا تھا جبکہ ریاستی وزراء عام لباس میں ایوان پہنچے۔ ایوان میں برسر اقتدار اور اپوزیشن ارکان کے درمیان رسمی ملاقات بھی نہیں دیکھی گئی۔
llمجلس کے ارکان فلور لیڈر اکبرالدین اویسی کی قیادت میں ایوان میں داخل ہوئے اور تمام ارکان شیروانی زیب تن کئے ہوئے تھے۔
llبی جے پی کے ارکان زعفرانی کھنڈوا کے ساتھ ایوان میں داخل ہوئے اور برسر اقتدار پارٹی کی نشستوں کے قریب بیٹھ گئے۔
llگورنر سوندرا راجن ٹھیک 11.30 بجے ایوان میں داخل ہوئیں ۔ ان کے ہمراہ صدرنشین کونسل سکھیندر ریڈی ، اسپیکر جی پرساد کمار اور چیف منسٹر ریونت ریڈی موجود تھے۔ گورنر نے اسپیکر اور صدرنشین کے ساتھ جیسے ہی اپنی نشست سنبھالی ، قومی ترانہ کی دھن بجائی گئی۔ گورنر کے خطبہ کے آخر میں بھی قومی ترانہ کی دھن بجائی گئی۔
llگورنر سوندرا راجن نے انگریزی میں خطبہ پڑھا جو 12 صفحات پر مشتمل تھا۔ گورنر نے خطبہ کے آغاز پر کالوجی نارائن راؤ کی شاعری کا کچھ حصہ تلگو زبان میں پڑھا۔ خطبہ کے آخر میں گورنر نے ڈاکٹر بی آر امبیڈکر کا ایک قول نقل کیا اور پھر مشہور تلگو شاعر داسردھی کے دو مشہور شعر تلگو زبان میں ادا کئے۔ گورنر کو داسردھی کے اشعار پڑھنے میں دشوار ہوئی جس کی نشاندہی بی آر ایس ارکان نے کی جس پر انہوں نے دوبارہ اشعار کو دہرایا۔
llگورنر نے 25 منٹ میں خطبہ مکمل کرلیا اور خطبہ کے دوران برسر اقتدار پارٹی کے ارکان میزیں تھپتھپاکر استقبال کر رہے تھے۔ گورنر 11.55 بجے ایوان سے روانہ ہوگئیں اور تمام ارکان کے استقبال کا ہاتھ جوڑ کر جواب دیا۔
llاسپیکر اسمبلی جی پرساد کمار چونکہ نئے ہیں، لہذا وہ قواعد سے واقف نہیں ہیں۔ گورنر کی واپسی کے وقت اسپیکر اور صدرنشین کونسل کو گورنر کے آگے چلنا ہوتا ہے جبکہ گورنر کے ساتھ چیف منسٹر ہوتے ہیں۔ پرساد کمار گورنر کے پیچھے رہ گئے اور ریونت ریڈی نے انہیں تیزی سے آگے بڑھادیا۔
llگورنر ڈاکٹر سوندرا راجن کے اسمبلی پہنچنے پر چیف منسٹر ریونت ریڈی ، اسپیکر پرساد کمار، صدرنشین کونسل سکھیندر ریڈی ، وزیر امور مقننہ ڈی سریدھر بابو ، ڈی جی پی روی گپتا ، چیف سکریٹری شانتی کماری اور سکریٹری لیجسلیچر نرسمہا چاریلو نے گلدستہ پیش کرتے ہوئے استقبال کیا اور سرخ قالین سے گزرتے ہوئے ایوان میں پہنچے۔