اسمبلی میں اکبر اویسی کا ’ یو ٹرن ‘، 10 سالہ حلیف کی شکایت کردی

   

سریدھر بابو نے ’ کان خوش کرنے‘ کی کہانی یاد دلائی، منی کنڈہ جاگیر پر بی آر ایس کے دوہرے موقف کا تذکرہ
حیدرآباد۔/14 فروری، ( سیاست نیوز) گذشتہ 10 برسوں تک بی آر ایس کی حلیف کا رول ادا کرنے والی مجلس نے آج قانون ساز اسمبلی میں ’ یو ٹرن‘ کے ذریعہ ارکان کو حیرت میں ڈال دیا۔ بجٹ پر مباحث کے دوران مجلس کے فلور لیڈر اکبر الدین اویسی نے اپنی طویل تقریر میں اقلیتوں سے متعلق کئی امور کا حوالہ دیتے ہوئے اس بات کی شکایت کی کہ سابق بی آر ایس حکومت نے دس برسوں میں صرف تیقن دیا لیکن عملی اقدامات نہیں کئے۔ اکبر اویسی نے منی کنڈہ جاگیر کی 1600 ایکر وقف اراضی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ تلنگانہ جدوجہد کے دوران اسوقت کی ٹی آر ایس نے منی کنڈہ جاگیر وقف اراضی کے تحفظ کیلئے ان کے ساتھ ملکر ہائی کورٹ میں مقدمہ دائر کیا تھا۔ ہائی کورٹ میں وقف اراضی کے حق میں فیصلہ آیا لیکن برسراقتدار آنے کے بعد ٹی آر ایس نے اپنا موقف تبدیل کرلیا۔ انہوں نے کہا کہ ہائی کورٹ کے فیصلہ کے خلاف جب سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی گئی اس وقت بی آر ایس حکومت نے منی کنڈہ جاگیر کو سرکاری اراضی قرار دیتے ہوئے حلفنامہ داخل کیا۔ اس طرح بی آر ایس نے وقف اراضی پر اپنا موقف تبدیل کردیا۔ اکبر اویسی نے اور بھی بعض امور کا حوالہ دیا جس پر سابق حکومت نے دس برسوں تک کارروائی نہیں کی۔ اس مرحلہ پر وزیر امور مقننہ سریدھر بابو نے اکبر اویسی کو ’’ کان خوش کرنے‘‘ کی کہانی یاد دلائی جس پر اکبر اویسی نے کہا کہ اگر بی آر ایس ارکان ایوان میں ہوتے تو وہ دوبارہ یہ کہانی دہراتے۔ اکبر اویسی نے مباحث میں حصہ لیتے ہوئے اسکالر شپ، فیس بازادائیگی اور اوورسیز اسکالر شپ کے بقایا جات کی فوری اجرائی کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے وقف بورڈ کو جوڈیشیل پاورس دینے اور وقف اراضیات کے سرکاری ہونے کے دعوؤں پر اجلاس طلب کرنے کی تجویز پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس حیدرآباد انٹر نیشنل ایرپورٹ تعمیر کرنے کا دعویٰ کرتی ہے لیکن یہ ایرپورٹ بھی درگاہ حضرت بابا شرف الدینؒ کی وقف اراضی پر ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گذشتہ سال رمضان المبارک کیلئے حکومت نے 105 کروڑ منظور کرتے ہوئے تمام ضلع کلکٹرس کو روانہ کئے تھے لیکن بعد میں کلکٹرس کو اجازت دی گئی کہ وہ یہ رقم اپنی مرضی مطابق خرچ کرلیں۔ جس پر کلکٹرس نے دیگر کاموں پر یہ بجٹ خرچ کردیا۔ اکبر اویسی نے کلکٹرس کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا اور کہا کہ 105 کروڑ روپئے کلکٹرس سے وصول کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ حج ہاوز سے متصل زیر تعمیر کامپلکس کی تکمیل کیلئے سابق حکومت نے 25 کروڑ منظور کئے تھے لیکن یہ رقم جاری نہیں کی گئی۔ انہوں نے انیس الغرباء کی عمارت کو تجارتی اغراض کیلئے الاٹ کرنے کے بجائے ٹمریز کے دفتر، اقامتی اسکول اور غریبوں کیلئے بستی دواخانہ جیسی سہولتوں کیلئے استعمال کرنے کا مشورہ دیا۔ مجلسی فلور لیڈر نے اقلیتی اداروں میں عہدیداروں کی کمی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ تمام اقلیتی ادارے مستقل عہدیداروں سے محروم ہیں۔1