ہنگامہ خیز ہونے کا امکان، حکومت کو گھیرنے اپوزیشن کی حکمت عملی
حیدرآباد۔5۔ستمبر۔(سیاست نیوز) تلنگانہ قانون ساز اسمبلی و کونسل کے اجلاس کا 7ستمبر سے ہنگامہ خیز آغاز ہونے کا امکان ہے اور کہا جا رہاہے کہ مانسون سیشن کے اجلاس کے دوران اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے برسراقتدار پارٹی اور حکومت کو فیس بازادائیگی ‘ اسکالرشپس‘ 22-A کے تحت موجود ممنوعہ اراضیات‘ 6گیارنٹیز ‘ وقف جائیدادوں کی تباہی ‘ انتخابی وعدوں کے علاوہ پالی ٹیکنک کالجس کے انضمام کے اقدامات پرجوابدہ بنایا جائے گا ۔ذرائع سے موصولہ اطلاعات کے مطابق اپوزیش جماعتوں کی جانب سے مانسون سیشن کے دوران عوامی مسائل کو ایوان میں اٹھانے کے سلسلہ میں تحریری سوالات روانہ کئے جاچکے ہیں اور محکمہ جات ان سوالات کے جواب تیار کرچکے ہیں۔ بتایاجاتاہے کہ مانسون اجلاس کے دوران حکومت کی جانب سے 1000 سالہ کارکردگی پر رپورٹ پیش کرنے کی تیاری کی جار ہی ہے علاوہ ازیں کسانوں کے مسائل اور انہیں فراہم کی جانے والی امداد و دیگر اقدامات سے ایوان کو واقف کروانے کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے۔ذرائع کے مطابق اسمبلی انتخابات میں حصہ لینے کے لئے عمر کو 25 سے گھٹا کر 21 سال کرنے کے چیف منسٹر کے اعلان کے سلسلہ میں ریاستی حکومت کی جانب سے ایوان میں قرارداد پیش کئے جانے کا بھی جائزہ لیا جا رہاہے ۔ عہدیداروں کے مطابق ریاستی حکومت بالخصوص چیف منسٹر اے ریونت ریڈی نے جو اعلان کیا ہے اس سے متعلق قرار داد کی پیشکشی اور اس قرار داد کو منظورکروانے کے متعلق حکمت عملی کی تیاری اور مباحث کے انعقاد کا بھی جائزہ لیا جانے لگا ہے۔ ریاستی اسمبلی و قانون ساز کونسل کے اجلاس کے انعقاد کے سلسلہ میں جاری تیاریوں کے دوران ریاست کے تمام محکمہ جات بالخصوص محکمہ تعلیم ‘ محکمہ بلدی نظم و نسق‘ محکمہ سیاحت ‘ محکمہ صحت کے علاوہ دیگر محکمہ جات کی سرگرمیوں میں کافی اضافہ دیکھا جار ہاہے۔ریاستی حکومت کے ذرائع نے بتایا کہ تلنگانہ میں راشن کارڈس کی اجرائی ‘ SIR کے مراحل کے علاوہ دیگر امور پر بھی اسمبلی سیشن کے دوران مباحث متوقع ہے کیونکہ فہرست رائے دہندگان سے حذف ہونے والے ناموں کے متعلق مختلف گوشوں کی جانب سے شبہات کا اظہار کیا جانے لگا ہے۔اپوزیشن جماعتیں بالخصوص بی آرایس اور بی جے پی کی جانب سے ریاست کے آبپاشی مسائل ‘ ذخائر آب کی صورتحال اور آبی تقسیم کے معاملہ پر بھی مباحث کا مطالبہ کئے جانے کا امکان ہے۔3