بی ایس پی دوسری پارٹیوں کی طرح مالداروں کے سہارے پرنہیں چلتی جو تنگ نظروں کو ایک آنکھ نہیں بھاتی
لکھنؤ، 19 جون (یو این آئی) بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) کی سربراہ مایا وتی نے ایک خانگی میڈیا ہاؤس کی جانب سے کیے گئے اسٹنگ آپریشن کو بی ایس پی اور اس کی قیادت کو بدنام کرنے کی سازش قرار دیا ہے ۔ سابق وزیر اعلیٰ مایا وتی نے جمعہ کو کہا کہ بی ایس پی ملک میں بہوجن سماج اور اونچی ذات کے سماج کے غریب، استحصال زدہ، مظلوم اور پسماندہ لوگوں کے ذریعے ان کے آئینی حقوق اور انصاف کے لیے بابا صاحب ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر کے دکھائے ہوئے راستوں پر چلنے والی ’سروجن ہتائے و سروجن سکھائے ‘ کی سچی اور ایماندار امبیڈکر وادی پارٹی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی ایس پی دوسری پارٹیوں کی طرح بڑے بڑے سرمایہ کاروں اور مالداروں کے سہارے اور ان کے اشاروں پر نہیں چلتی ہے، بلکہ اپنے لوگوں کے ہی تن، من اور دھن کے زور پر چلتی ہے ۔ مایا وتی نے الزام لگایا کہ یہ بات تنگ نظر، ذات پرست، فرقہ وارانہ اور سرمایہ دارانہ طاقتوں کو ایک آنکھ نہیں بھاتی ہے ۔ اسی لیے وہ وقتاً فوقتاً اور خاص طور پر انتخابات قریب آنے پر مختلف قسم کے ہتھکنڈے استعمال کر کے بی ایس پی و موومنٹ کو اور اس کی ‘آئرن لیڈی’ قیادت کو بھی بدنام کرنے میں لگے رہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا کا ایک طبقہ دوسری پارٹیوں کی انتخابی جوڑ توڑ وغیرہ سے لوگوں کی توجہ ہٹانے اور ان پر پردہ ڈالنے کے لیے بی ایس پی امیدوار کے انتخاب پر سوالیہ نشان لگاتا رہتا ہے ۔ انہوں نے صاف کیا کہ بی ایس پی کو جو بھی اقتصادی تعاون حاصل ہوتا ہے ، وہ پارٹی امیدوار کی جیت یقینی بنانے پر ہی قانونی طور سے زیادہ تر خرچ کردیا جاتا ہے ، جو کسی سے بھی چھپا ہوا نہیں ہے ۔ پھر بھی اس کے تعلق سے سازش کے تحت گمراہ کرنے والی طرح طرح کی غلط باتیں اور افواہیں پھیلانا میڈیا کو زیب نہیں دیتا ہے ۔ بی ایس پی سربراہ نے بتایا کہ صرف بی ایس پی یوپی اسٹیٹ یونٹ کے صدر وشوناتھ پال ہی نہیں بلکہ پارٹی کے دیگر تمام چھوٹے بڑے عہدیداران اور کارکن بھی اس وقت پارٹی تنظیم کی مضبوطی اور پارٹی کے عوامی دائرے کو ’سرو سماج‘ میں بڑھانے کے ساتھ ساتھ آئندہ یوپی اسمبلی عام انتخابات کے لیے پارٹی امیدواروں کی ممکنہ فہرست بنانے اور ان کی ٹھوس اسکریننگ کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پارٹی کی امیدواری کے تعلق سے ملنے والوں سے ان کی سماجی، سیاسی اور اقتصادی حیثیت کے ساتھ ہی ان کی پارٹی کے تئیں وفاداری اور پائیداری کو بھانپنے کے لیے کورٹ میں جرح کی طرح طرح کے سوال جواب بھی کیے جاتے ہیں۔ محترمہ مایا وتی نے کہا کہ اس کی گہرائی میں گئے بغیر ہی اسے اس کی پوری ‘فیس ویلیو’ پر غلط لینا مناسب نہیں ہے ۔