اسٹنگ آپریشن کی سیاست

   

Ferty9 Clinic

اُن کا جو کام ہے وہ اہلِ سیاست جانیں
میرا پیغام محبت ہے جہاں تک پہنچے

گذشتہ چند ہفتوں سے قومی سیاست کا رنگ بدلا جارہا ہے۔ سیاسی لڑائی کو ایک دائرہ میں محدود کرنے کی کوشش کرتے ہوئے بی جے پی اور عام آدمی پارٹی کو ایک دوسرے کے مدمقابل لاکھڑا کیا جارہا ہے۔ کوئی میڈیا ہو یا پھر زرخرید ٹی وی چینلس ہوں سبھی کی کوشش یہی دکھائی دے رہی ہے کہ ایک ایجنڈہ کے تحت دونوں پارٹیوں کو ایک دوسرے کی کٹر حریف اور اصل مقابلہ کی حقدار کے طور پر پیش کیا جائے۔ اس ساری لڑائی اور ٹی وی مباحث کے مقاصد واضح ہوتے جارہے ہیں۔ یہ دراصل متحدہ اپوزیشن کے امکانات کو سبوتاج کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔ اب جبکہ آئندہ عام انتخابات کا وقت قریب آتا جارہا ہے اور ان سے قبل ملک کی چند ریاستوں میں بھی اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں، ان میں کانگریس اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کے امکانات کو متاثر کرنے عام آدمی پارٹی کو ابھارا جارہا ہے۔ عام آدمی پارٹی بھی ایسا لگتا ہیکہ اس سوچے سمجھے منصوبے کا حصہ ہے یا پھر بی جے پی کے بچھائے ہوئے جال میں جانے انجانے میں پھنستی جارہی ہے۔ ٹی وی مباحث میں خود عام آدمی پارٹی کے نمائندے اپوزیشن اتحاد کے امکان کو عملاً مسترد کرتے نظر آرہے ہیں۔ الزامات و جوابی الزامات کے دوران یہ دعویٰ کیا جارہا ہیکہ آئندہ عام انتخابات بی جے پی و عام آدمی پارٹی کے مابین مقابلہ ہوں گے جبکہ حقیقت یہ ہیکہ لوک سبھا میں فی الحال عام آدمی پارٹی کا ایک بھی رکن نہیں ہے۔ اس کے باوجود ٹی وی کے مباحث کے ذریعہ ایک تاثر عام کرنے کی کوشش تیز ہوگئی ہیں۔ ملک کے بے شمار مسائل کو نظرانداز کرتے ہوئے دہلی کی شراب پالیسی اور اسکولوں کی تعمیر پر مباحث کروائے جارہے ہیں اور عوام کے ذہنوں کو منتشر کیا جارہا ہے۔ ایک دوسرے کے خلاف الزامات اور جوابی الزامات عائد کئے جارہے ہیں اور اب ایک قدم آگے بڑھاتے ہوئے اسٹنگ آپریشن کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے۔ پہلے عام آدمی پارٹی نے دعویٰ کیا کہ اس کے ارکان اسمبلی کو خریدنے کی کوشش کی گئی جو ناکام ہوگئی۔ عآپ کے ارکان اسمبلی نے کسی لالچ کو قبول نہیں کیا۔ بی جے پی پر الزام عائد کیا گیا کہ وہ دہلی کی حکومت کو زوال کا شکار کرنا چاہتی تھی جبکہ دہلی میں بی جے پی کے صرف 2 ارکان اسمبلی ہیں۔ اس الزام کی تائید میں کوئی جامع اور ٹھوس ثبوت پیش نہیں کیا گیا اور محض اتنا کہا گیا کہ وقت آنے پر سارا آڈیو جاری کردیا جائے گا۔ اب وقت کب آئے گا اس کی کوئی صراحت نہیں کی گئی۔
بی جے پی نے پہلے تو ان الزامات کی مسلسل تردید کی اور اب اچانک ایک اسٹنگ آپریشن کا دعویٰ کیا جارہا ہے اور الزام عائد کیا جارہا ہے کہ عام آدمی پارٹی کے ارکان اسمبلی نے شراب پالیسی کیلئے بھاری رقومات حاصل کی تھیں۔ ایک ویڈیو جاری کرتے ہوئے یہ الزام عائد کیا جارہا ہیکہ دہلی کے چیف منسٹر اروند کجریوال اور ڈپٹی چیف منسٹر منیش سیسوڈیا نے شراب پالیسی کے تحت خانگی تاجروں سے سینکڑوں کروڑ روپئے کے کمیشن حاصل کئے ہیں۔ اس طرح بی جے پی نے ارکان اسمبلی کو خریدنے کے عام آدمی پارٹی کے الزامات کا جواب دینے کی کوشش کی ہے۔ اس اسٹنگ آپریشن یا ویڈیو کی حقیقت کیا ہے اس کی تو ابھی وضاحت نہیں ہوئی ہے لیکن الزامات و جوابی الزامات کا سلسلہ ضرور دراز ہوتا جارہا ہے۔ ان کے ذریعہ ٹی وی چینلس پر مزید کئی دن مباحث کا اہتمام کرواتے ہوئے حقیقی مسائل اور صورتحال سے عوام کی توجہ کو بھٹکایا جائے گا۔ اپوزیشن کے اتحاد کو قبل از وقت پارہ پارہ کرنے کے منصوبوں کے تحت ایسا کیا جارہا ہے اور انتخابی مقابلہ کو بی جے پی کے حق میں زیادہ سے زیادہ آسان کرنے کی حکمت عملی کو آگے بڑھایا جارہا ہے۔ بی جے پی تو اس میں بڑا کردار ادا کررہی ہے لیکن عام آدمی پارٹی بھی اس کا حصہ بنتے ہوئے اسی کام میں اپنا بھی رول ادا کررہی ہے۔ جو الزامات و جوابی الزامات عائد کئے جارہے ہیں ان کی سچائی اور حقیقت کا پتہ چلانے پر کسی کی توجہ نہیں ہے۔ صرف زبانی جمع خرچ پر ہی توجہ کی جارہی ہے۔ اس سے بھی پتہ چلتا ہیکہ اصل مقصد صرف اور صرف عوامی توجہ کو بانٹنا اور بی جے پی کی بالواسطہ مدد کرنا ہی ہے۔
سیاسی مقاصد سے ہٹ کر اگر کوئی بات ہے تو پھر بی جے پی اور عام آدمی پارٹی دونوں کے الزامات کی تحقیقات ہونی چاہئے۔ عام آدمی پارٹی کے اپس اگر آڈیو ثبوت ہے تو اس کے ذریعہ عدالت سے رجوع ہونا چاہئے تھا جبکہ بی جے پی کے اسٹنگ ویڈیو درست ہیں تو اس کی بنیاد پر ای ڈی اور سی بی آئی کو متحرک کیا جانا چاہئے تھا۔ صرف الزامات کے ذریعہ سیاسی مقصد براری پر توجہ کی جاتی ہے تو اس سے واضح ہوجاتا ہیکہ یہ سب کچھ محض ایک ڈرامہ ہی کہا جاسکتا ہے۔ دونوں ہی جماعتوں کی سنجیدگی کا امتحان اسی بات میں ہے کہ وہ اپنے اپنے دعوؤں کے حق میں ثبوت پیش کریں اور عدالتی راستہ اختیار کریں بصورت دیگر اس طرح کے ڈراموں سے گریز کیا جانا چاہئے۔