نئی دہلی: وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے آج کہا کہ محکمہ دفاع کے جملہ 32 لاکھ دفاعی پنشنرز میں 30 لاکھ کو اسپرش پورٹل سے کامیابی سے جوڑ دیا گیا ہے ۔ یہاں ڈیفنس اکاؤنٹس ڈپارٹمنٹ کے 277 ویں سالانہ یوم کی تقریب سے خطاب میںمسٹر سنگھ نے کہا کہ کئی چیلنجوں کے باوجود محکمہ اس ویب پر مبنی نظام کو نافذ کرنے میں کامیاب رہا ہے ۔ وزیر دفاع نے ڈی اے ڈی کی مختلف اشاعتوں کے ساتھ اسپرش آڈٹ مینول کا اجرا کیا۔ انہوں نے وسائل کے زیادہ استعمال، اکاؤنٹنگ میں کارکردگی، شفافیت اور جدید ٹکنالوجیز کے ذریعے ملک کے دفاعی ماحولیاتی نظام کو جدید اور مضبوط بنانے ڈی اے ڈی کی کوششوں کو سراہا۔ انہوں نے مختژر تفصیلات پر توجہ مرکوز کرنے پر محکمہ کی تعریف کی، جس سے دفاع سے متعلق پالیسیوں اور تجاویز میں ضروری بہتری آتی ہے ۔ گزشتہ برسوں میں دفاعی شعبے میں حاصل کی گئی پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے راجناتھ سنگھ نے کہا کہ ایک وقت تھا جب مسلح افواج کیلئے خریداری درآمدات پر منحصر تھی اور معیشت پر دفاعی اخراجات کا مثبت اثر بہت محدود تھا۔ انہوں نے کہا کہ خود انحصاری حاصل کرنے کیلئے مرکزی حکومت کی کوششوں کی وجہ سے ہندوستان آج ایک دفاعی برآمد کنندہ کے طور پر دیکھا جاتا ہے ۔ وزیر دفاع نے ڈی اے ڈی پر زور دیا کہ وہ محکمے کو دفاعی مالیات اور اقتصادیات کے شعبے میں ایک ’سینٹر آف ایکسیلنس‘ بنانے کیلئے ایک روڈ میپ تیار کرے ۔ انہوں نے ایک مضبوط اور جامع ڈیٹا مینجمنٹ سسٹم قائم کرنے کی بھی وکالت کی جو حکومت کو ملکی معیشت پر دفاعی اخراجات کے اثرات کے بارے میں تجزیاتی رپورٹس فراہم کرتا ہے ، جیسے کہ دفاعی دکانداروں کا محصولات اور روزگار پیدا کرنے میں شراکت کا تجزیہ ۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک جامع پالیسی نظام کے قیام میں مددگار ثابت ہوگا، جس سے ’پورے حکومتی نقطہ نظر‘ کا احساس پیدا ہوگا۔