اسکراپ کار ، سولار پیانل سے چلنے والی الکٹرک کار میں تبدیل

   

نواب شاہ عالم خاں کالج آف انجینئرنگ اینڈ ٹکنالوجی کے 5 طلباء کا کارنامہ
ذہین و ہونہار طلباء کی ممکنہ مدد کرنے جناب عامر علی خاں کا اعلان
حیدرآباد ۔ 22 ۔ مئی : ( سیاست نیوز ) : ملت میں ایسے ہزاروں لاکھوں بچے ہیں جو غیر معمولی صلاحیتوں کے حامل ہیں ۔ وہ زندگی کے ہر شعبہ میں بآسانی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا سکتے ہیں ۔ لیکن انہیں حوصلہ افزائی اور صحیح رہنمائی کی ضرورت ہے ۔ اگر ہمدردان ملت ، اس طرح کے ذہین لڑکے اور لڑکیوں کی حوصلہ افزائی کے لیے آگے آئیں تو ہر شعبہ میں ہماری نئی نسل نظر آئے گی اور پھر ملت معاشی و تعلیمی شعبوں میں بھی مستحکم ہوگی ۔ قارئین آج ہم آپ کو ایسے پانچ ہونہار طلباء کے بارے میں بتائیں گے جو غیر معمولی اختراعی صلاحیتوں کے حامل ہیں ان لوگوں نے اپنی تخلیقی صلاحیتوں کے ذریعہ ایسا کچھ کرنے کی کوشش کی ہے جو دوسروں سے الگ اور جداگانہ ہے ۔ ان 5 نوجوانوں میں چار کا تعلق پرانا شہر اور ایک کا تعلق نئے شہر سے ہے ۔ ہم بات کررہے ہیں نواب شاہ عالم خاں کالج آف انجینئرنگ اینڈ ٹکنالوجی کے میکانیکل انجینئرنگ سال آخر کے طلباء محمد مزمل فاروقی ، محمد یوسف احمد طلحہ ، محمد امین حسین فرحان ، محمد نعمان احمد اور محمد حافظ دلیر علی کی جنہوں نے اپنے میجر پراجکٹ کے لیے ایک ایسی کار تیار کی جو پہلے پٹرول / ڈیزل سے چلا کرتی تھی لیکن مذکورہ طلباء نے اسے شمسی توانائی ( سولار انرجی ) سے چلنے والی الیکٹرک وہیکل EV میں تبدیل کیا ۔ یہ کار اگر آپ 80 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلائیں گے تو ایک مرتبہ بیاٹری چارج کرنے پر 60 تا 70 کلومیٹر تک چلا سکتے ہیں ۔ اس کار کی چھت پر 4 سولار پیانل فٹ کیا گیا ہے ۔ ان طلبہ نے کار میں 4kw کی BLDC موٹر نصب کی جب کہ 48V, 80amp کی بیاٹری بھی نصب کی گئی ہے ۔ جہاں تک بیاٹری کا سوال ہے اس میں 16 ڈرائی سیلس ہیں اور یہ بیاٹری لیتھم پروفاسفیٹ کی ہے ۔ بازار میں جس کی قیمت ایک لاکھ بیس تا ایک لاکھ تیس ہزار روپئے ہے ۔ لیکن ان طلباء نے خود بیاٹری اسمبل کی اس طرح بیاٹری پر انہیں 80 ہزار روپئے کے مصارف آئے جب کہ گاڑی کی تیاری پر تقریبا 2 لاکھ روپئے کے مصارف آئے ان طلباء نے اپنے ہیڈ آف دی ڈپارٹمنٹ جناب ایس ایم حسینی ( سید مجاہد حسینی ) اور گائیڈ محمد عبدالمعید کا بطور خاص شکریہ ادا کیا ۔ ایس ایم حسینی نے اس پراجکٹ کے لیے یہ گاڑی طلباء کو پیش کی ۔ نیوز ایڈیٹر سیاست جناب عامر علی خاں نے محمد مزمل فاروقی ، محمد یوسف احمد طلحہ ، محمد امین حسین فرحان ، محمد نعمان احمد اور محمد حافظ دلیر علی کے اس پراجکٹ کے لیے زبردست ستائش کی ۔ خوشنودی کا اظہار کرتے ہوئے آئندہ کے پراجکٹ میں ان کی ہر طرح سے بھر پور مدد کا تیقن دیا اور کہا کہ پرانا شہر میں ذہین طلباء وطالبات کی کوئی کمی نہیں ۔ ان بچوں کی صرف حوصلہ افزائی اور صحیح رہنمائی کرنے کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے ان طلباء کو اسی طرز پر آٹوز کو بھی ماحول دوست گاڑیوں میں تبدیل کرنے کا مشورہ دیا تاکہ غریب آٹو ڈرائیورس مہنگے پٹرول و ڈیزل کے منفی اثرات سے بچ جائیں ۔ جناب عامر علی خاں نے نہ صرف نواب شاہ عالم خاں کالج آف انجینئرنگ اینڈ ٹکنالوجی کے مذکورہ طلباء کی تیار کردہ کار کا جائزہ لیا بلکہ اس میں بیٹھ کر بھی دیکھا کہ کار کیسی چل رہی ہے ۔ دوسری طرف اپنی اسکولی تعلیم کے بارے میں محمد مزمل فاروقی نے بتایا کہ ان کا تعلق پرانا شہر کے مغل پورہ سے ہے اور دہلی پبلک اسکول سے ایس ایس سی کیا ، محمد یوسف احمد طلحہ کے مطابق وہ ٹولی چوکی میں رہتے ہیں ماونٹ مرسی اسکول سے ہائی اسکول کی تعلیم مکمل کی ، محمد امین حسین فرحان معین باغ کے رہنے والے ہیں حیدرآباد پبلک اسکول سے ایس ایس سی کیا ۔ محمد نعمان انڈو انگلش اسکول سنتوش نگر کے طالب علم رہ چکے ہیں جب کہ شاہ علی بنڈہ کے رہنے والے محمد حافظ دلیر علی نے سعودی عرب سے ہائی اسکول کی تعلیم مکمل کی ۔۔