مظفرنگر ( یوپی ) : معروفی اسلامی درسگاہ دارالعلوم دیوبند کے علماء نے کہا ہے کہ اسکولوں میں ’بھگوت گیتا ‘پڑھائی جائے تو اُنھیں کچھ اعتراض نہیں ، لیکن یہ اُن پر مسلط نہیں کی جائے جو اس پر آمادہ نہیں ہے ۔ چھٹی سے بارہویں تک اسکولی نصاب میں بھگوت گیتا کو شامل کرنے حکومت گجرات کے حالیہ فیصلے پر ردعمل میں مولانا قاری اسحق نے کہاکہ حکومت کو چاہئے کہ پہلے طلبہ کی رضامندی حاصل کرے اور اُنھیں کو اس کی تعلیم دے جو اس کے لئے رضامند ہوں ۔ مولانا اسحق دیوبند میں سماجی تنظیم جمعیت دعوتِ مسلمین کے سرپرست ہیں۔ اُنھوں نے کہاکہ تمام عقائد کے مقدس کتابوں کو پڑھنا اور اُن کے تعلق سے جانکاری حاصل کرنا اچھی بات ہے ۔ میں نے میرے مذہب کی مقدس کتاب پڑھی ہے اور دیگر مذاہب کی کتابیں بھی پڑھی ہیں ۔ میں نے گیتا کو پڑھا ہے لیکن میرا احساس ہے کہ کسی مذہب یا اُس کی مقدس کتابوں کو دوسروں پر مسلط کرنا مناسب نہیں ہے ۔ اُنھوں نے مزید کہا کہ اسکول علم سیکھنے کا مقدس ادارہ ہے ، نہ کہ کوئی مخصوص مذہب کے نظریہ کو فروغ دینے کا مقام ہے ۔ مقامی عالم مفتی اسد قاسمی نے بھی حکومت گجرات کے فیصلے پر اپنے ردعمل میں ناراضگی کا اظہار کیا ۔ اُنھوں نے کہاکہ کم عمر بچوں کے ذہنوں پر اس طرح کی باتیں مسلط کرنا غلط ہے ۔