رکن اسمبلی راجہ سنگھ کے فیس بک اکاونٹ پر پابندی
حیدرآباد : تلنگانہ بی جے پی رکن اسمبلی ٹی راجہ سنگھ ہمیشہ اپنی زہر افشانی کیلئے سرخیوں میں رہتے ہیں لیکن اِس مرتبہ اُنھیں زہر اُگلنا نقصان دہ ثابت ہوا کیوں کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم فیس بُک نے اُن کے اکاؤنٹ پر پابندی لگادی۔ تلگودیشم منگل ہاٹ کارپوریٹر کی حیثیت سے کیرئیر کا آغاز کرنے والے راجہ سنگھ بی جے پی کے شعلہ بیان لیڈر کی طرح اُبھرے ہیں۔ راجہ سنگھ کے خلاف 60 سے زائد مقدمات ہیں جس میں 40 سے زائد زیردوران ہے لیکن پولیس ان کا فیس بُک اکاؤنٹ بند کرانے میں ناکام رہی ہے لیکن فرقہ پرست اور اشتعال انگیز بیانات کا تجزیہ کرنے کے بعد فیس بُک نے ازخود کارروائی اُن کا اکاؤنٹ بند کردیا ہے۔ راجہ سنگھ کا فرقہ پرست چہرہ اُس وقت سامنے آیا تھا جب اُن کے خلاف 2010 ء میں حسینی علم میں سری رام نومی اور میلادالنبیؐ کے دوران فسادات میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ اس کے بعد راجہ سنگھ مسلسل اشتعال انگیزی کرکے کارپوریٹر سے رکن اسمبلی تک پہونچے ۔ ذرائع نے بتایا کہ راجہ سنگھ کے بعض مخصوص بیانات ہیں جس پر فیس بُک کارروائی پر مجبور ہوگیا۔ 23 جولائی 2018 ء کو راجستھان کے ضلع الور میں گاؤ رکھشکوں کی جانب سے ایک مسلم شخص کو ہجومی تشدد میں ہلاک کردینے پر راجہ سنگھ نے زہرافشانی کی تھی۔ جبکہ روہنگیا کے مسلمانوں کے معاملہ میں راجہ سنگھ نے فیس بُک پر اپنے بیان میں کہا تھا کہ روہنگیا اگر ملک دشمن سرگرمیوں میں پائے جاتے ہیں تو اُنھیں گولی مار دی جائے۔ اسی طرح 6 نومبر 2017 ء میں راجہ سنگھ نے فلم ’پدماوت‘ تلنگانہ کے تھیٹرس میں ریلیز کئے جانے پر تھیٹروں کو آگ لگادینے کی دھمکی دی تھی۔