کنارہ نہیں کوئی دریا دلی کا
یہ فیض سخاوت کوئی ہم سے پوچھے
اشوک گہلوٹ کابینہ میں توسیع
راجستھان میں اشوک گہلوٹ کی کابینہ میں بالآخر توسیع کردی گئی اور کہا جا رہا ہے کہ یہ توسیع در اصل سچن پائلٹ کے گروپ کو مطمئن کرنے کی کوشش کے طور پر ہوئی ہے ۔ سچن پائلٹ نے ریاستی حکومت سے ناراض ہوتے ہوئے اس کا کھلے عام اظہار کیا تھا ۔ یہ اندیشے پیدا ہوگئے تھے کہ وہ بھی مدھیہ پردیش کے جیوتر آدتیہ سندھیا کی طرح پارٹی کے خلاف بغاوت کردینگے اور بی جے پی کو راجستھان میں اقتدار حاصل کرنے کا موقع مل جائے گا ۔ تاہم اس موقع پر پرینکا گاندھی واڈرا اور راہول گاندھی کی کوششوں کے نتیجہ میں سچن پائلٹ کو بغاوت کرنے سے روکنے میں کامیابی مل گئی تھی اور وہ پارٹی میں برقرار رہے تھے ۔ اس وقت انہیں مطمئن کرنے کیلئے ایک فارمولا تیار کیا گیا تھا جس کے مطابق ان کے حامیوں کو ریاستی کابینہ میں شامل کرنا بھی تھا ۔ تاہم چند مہینے تک کسی طرح اشوک گہلوٹ اس توسیع کو ٹالتے رہے اور سچن پائلٹ کے حامیوںکو وزارتی نہیں دی گئی تھیں۔ سچن پائلٹ خاموشی اپنے حامیوں کیلئے جدوجہد کرتے رہے اور تین دن قبل دہلی میں ہائی کمان نے اشوک گہلوٹ کو طلب کرتے ہوئے واضح کردیا تھا کہ وہ فوری طور پر کابینہ میں توسیع کریں۔ کل اتوار کو ایک تقریب میںگہلوٹ کابینہ میں 15 نئے وزراء کو شامل کیا گیا ہے ۔ کابینہ میں توسیع اور رد و بدل کے ذریعہ ریاست کے عوام کو ایک اچھا پیام دیا گیا ہے اور یہ اشارہ بھی دیا گیا ہے کہ آئندہ اسمبلی انتخابات میں پارٹکی متحد ہو کر مقابلہ کرے گی ۔ جو 15 نئے وزرا شامل کئے گئے ہیں ان میں 11 کابینی اور 4 مملکتی درجہ کے وزیر ہیں۔ راجستھان میں کانگریس کیلئے حکومت سازی کے وقت سے ہی مشکلات درپیش رہی تھیں کیونکہ پارٹی نوجوانوں کی پسند کو بالائے طاق رکھتے ہوئے سینئر لیڈر اشوک گہلوٹ ہی کو چیف منسٹر بنایا تھا ۔ سچن پائلٹ حالانکہ ڈپٹی چیف منسٹر بنائے گئے تھے لیکن وہ اس سے مطمئن نہیں تھے ۔ کانگریس پارٹی نوجوان سچن پائلٹ اور سینئر اشوک گہلوٹ کے درمیان توازن رکھنے میں بھی ناکام رہی تھی جس کی وجہ سے مشکلات پیش آ رہی تھیں۔ اب ان مشکلات پر قابو پانے کی کوشش کی گئی ہے ۔
راجستھان میں کانگریس کو مستحکم کرنے کیلئے ضروری ہے کہ پارٹکی کی صفوں میں اتحاد و اتفاق رہے اور سبھی قائدین مل کر انتخابات میں کامیابی کی کوشش کریں۔ سچن پائلٹ نے پردیش کانگریس کی صدارت سنبھالنے کے بعد ریاست میں پارٹی کو مستحکم کرنے اور اسے اقتدار پر دوبارہ واپس لانے میں اہم رول ادا کیا تھا ۔ ان کی خدمات کا اعتراف بھی ہونا چاہئے اور آئندہ کیلئے حوصلہ افزائی بھی کی جانی چاہئے ۔ ان کے چند حامیوں کو آج کابینہ میں شامل کرتے ہوئے پارٹی کے سبھی گوشوں کو مطمئن کرنے کی کوشش کی گئی ہے اور اسی طرح کی کوششیں پارٹی اور حکومت دونوں میں اتفاق رائے پیدا کرنے کیلئے بھی کی جانی چاہئیں۔ پارٹی کو عوام میں پہونچاتے ہوئے حکومت کے کام کاج اور اس کی فلاحی اسکیمات سے عوام کو واقف کروایا جانا چاہئے ۔ یہ بھی واضح کرنے کی ضرورت ہوگی کہ ریاست میں پارٹی اسمبلی انتخابات میں کس کی قیادت میں مقابلہ کرے گی ۔ آئندہ چیف منسٹر کا چہرہ کون ہوگا یہ بھی واضح کیا جانا ضروری ہے ۔ نوجوانوں کو پارٹی سے قریب لانے کیلئے ضروری ہے کہ سچن پائلٹ کی اہمیت کو سمجھا جائے اور انہیں اہم ذمہ داری سونپتے ہوئے ان کی خدمات سے استفادہ کیا جائے ۔ سینئر قائدین اور ان کے تجربہ کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا اس لئے نوجوانوں اور سینئر قائدین کے مابین بہتر تامل میل پیدا کرنے کا بھی میکانزم موجود ہونا چاہئے تاکہ ہر کوئی اپنے دائرہ کار میں رہتے ہوئے پارٹی کے استحکام اور کامیابی کیلئے کام کرسکے ۔
اب جبکہ ریاست میں سچن پائلٹ کے حامیوں کو بھی بالآخر کابینہ میں شامل کرلیا گیا ہے اور چیف منسٹر نے انہیں قلمدان بھی سونپ دئے ہیں تو اب سبھی کی ذمہ داری بنتی ہے کہ اگر کچھ اختلافات ماضی میںرہے بھی ہیں توا ن کو فراموش کردیا جائے ۔ ان کو پس پشت ڈالتے ہوئے ریاست اور ریاستی عوام کی بہتری کیلئے کام کو آگے بڑھایا جائے تاکہ عوام کے درمیان دوبارہ ووٹ مانگنے کا موقع رہ سکے اور عوام کی تائید دوبارہ حاصل کی جاسکے ۔ کسی ایک گروپ کو دوسرے پر سبقت یا برتری کا احساس دلانے کی بجائے سب میں مساوات کو فروغ دیتے ہوئے دوبارہ اقتدار کے ایک نکاتی ایجنڈہ پر متحد کرنے کی ضرورت ہے ۔