حیدرآباد /2جنوری ( سیاست نیوز ) پہلے پیاز اب تیل پھر الائچی اب دالیں مہنگائی کا گراف مارکٹ سے کم ہونے کا نام نہیں لیتا ۔ ناقص پالیسیاں لاپرواہ مانیرٹنگ اب عوام کے سر پر مہنگائی کا بوجھ ڈالتے ہی جارہی ہے ۔ مہنگائی سے پہلے ہی پریشان حال عوام کیلئے ایک کے بعد ایک مصیبت دستک دے رہی ہے ۔ چونکہ تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہونے والا ہے ۔ مارکٹ میں پہلے ہی اشیاء خوردنی کی قیمتوں میں اضافہ پریشان حال عوام کو تیل قیمتیں مزید پریشان کرنے والی ہیں ۔ بدحال معاشی نظام بے ڈھنگی پالیسیاں بدعنوان ارباب مجاز کالا بازاری گرتی معیشت عام آدمی کو اپنی لپیٹ میں لے رہی ہے ۔ روزمرہ کی زندگی میں استعمال ہونے والی اشیاء ضروریہ کی قیمتوں میں مزید اضافہ کے اشارے دئے جارہے ہیں اور مہنگائی نے اس مرتبہ تیلوں کو اپنی لپیٹ میں لینا شروع کردیا ہے ۔ مارکٹ میں کاٹن اور پام آئیل 88 روپئے فی لیٹر دستیاب ہے جس کی قیمت فی لیٹر 10 روپئے اضافہ ہوسکتی ہے ۔ جبکہ سن فلاور اور ریفائنڈ آئیل جو بہت زیدہ استعمال ہوتا ہے ۔ 96 روپئے سے 110 تا 120 روپئے فی لیٹر ہوسکتا ہے ۔ اس طرح پھلی ریفائنڈ کی قیمت 150 روپئے ہے اس میں 30 تا 40 روپئے اضافہ ہونے کا امکان ہے ۔ اشیاء خوردنی کرانہ اور گرین کی قیمتوں میں اضافہ کا جائزہ لینے پر پتہ چلتا ہے مہنگائی ہی قیمتوں میں اضافہ کا اصل سبب ہے جبکہ کالا بازاری اور مارکٹ کی اشیاء ضروریہ پر کنٹرول کا نہ ہونا بھی ایک وجہ بتائی جاتی ہے لیکن اصل سبب کو مارکٹ کے تاجرین بھی مہنگائی بتاتے ہیں ۔ تلنگانہ کی سب سے بڑی کرانہ مارکٹ بیگم بازار میں ان دنوں کاروباری پریشان ہیں ۔ مارکٹ میں کاروبار کا فیصد دن بہ دن کم ہوتا جارہا ہے اور قیمتوں میں اصافہ سے خریداروں پر بھی برا اثر پڑا ہے ۔ بیگم بازار میں واقع حیدرآباد ہاوز اسٹور کے مالک مظہر خان نے بتایا کہ تیلوں کی قیمت میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ مہنگائی کے سبب عام آدمی کے علاوہ تاجرین کو بھی مشکلات کا سامنا ہے ۔ ایک طرف مہنگائی اور دوسری طرف کاروبار کا نہ ہونا ہر دن مارکٹ میں گراوٹ کا سبب بنتا جارہا ہے ۔ شہر کے دوسرے علاقوں میں بھی مارکٹ کا یہی حال ہے ۔ تاجرین کالا بازاری کو بھی قیمتوں میں اضافہ کا سبب مانتے ہیں ۔