ایس سی ‘ ایس ٹی ‘ بی سی و اقلیتی طبقات کیلئے ایک ہی مقام پر مستقل عمارتیں ہونگی : ڈپٹی چیف منسٹر
حیدرآباد 22 فروری(سیاست نیوز) حکومت ریاست کے مختلف اضلاع میں عالمی سطح کے اقامتی اسکولوں کے قیام کو یقینی بنائے گی اور اس کیلئے 2500 کروڑ روپئے خرچ کرکے ایس سی ‘ ایس ٹی ‘ بی سی اور اقلیتی رہائشی اسکولوں کی مستقل عمارتوں کا قیام عمل میں لایا جائے گا اور ایک ہی جگہ پر مختلف طبقات کے اسکولوں کی تعمیر کے ذریعہ حکومت مختلف طبقات میں بھائی چارگی کو فروغ دینے اقدام کرے گی۔ ڈپٹی چیف منسٹر فینانس ملو بھٹی وکرمارک نے آج محکمہ تعلیم کے عہدیداروں کا جائزہ اجلاس منعقد کرکے ہدایت دی کہ اقامتی اسکولوں کی مستقل عمارتوں کی تعمیر کو قطعیت دینے اقدامات فوری شروع کئے جائیں ۔انہوں نے عہدیداروں کو ہدایت دی کہ وہ ایک ہی مقام پر تمام طبقات کے اسکولوں کی عمارتوں کی تعمیر کا ایکشن پلان تیار کرکے حکومت کو پیش کریں۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے کہا کہ حکومت سے تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے کے علاوہ عالمی معیار کی سہولتوں کے ساتھ اقامتی اسکولوں کی تعمیرات کا منصوبہ ہے ۔ریاست میں اب تک مختلف طبقات کے اقامتی اسکولوں کیلئے مختلف مقامات پر عمارتیں تعمیر کی جاتی تھیں لیکن اب حکومت ان اقامتی اسکولوں کو ایک ہی مقام پر تعمیر کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے تاکہ تعلیم کے بنیادی مقاصد کی تکمیل کے ساتھ طلبہ میں بھائی چارگی کو فروغ دیا جاسکے ۔ انہو ںنے بتایا کہ ریاست میں 100 انٹگریٹیڈ اقامتی اسکولوں کی تعمیر کا منصوبہ ہے اور ایک عمارت پر 25 کروڑ کی لاگت آئے گی ان میں ایس سی ‘ ایس ٹی اور اقلیتی اقامتی اسکولوں کی مستقل عمارتیں یقینی بنائی جائیں گی۔انہو ں نے بتایا کہ ذات پات کے نظام سے پاک معاشرہ کی تعمیر میں یہ اسکول کلیدی کردار ادا کرسکتے ہیں۔ ملو بھٹی وکرمارک نے بتایا کہ تجرباتی اساس پر ان مستقل عمارتوں کیلئے حلقہ اسمبلی مدھیرا کا انتخاب کیا گیا ۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت نے ریاست کے تمام اسمبلی حلقوں میں طلبہ کی رہنمائی کیلئے نالج سنٹر کے قیام کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے جہاں طلبہ کو ان کے مستقبل کو تابناک بنانے اور ملازمتوں کیلئے رہبری کی جائے گی تاکہ وہ تعلیم کے بعد ملازمت کیلئے تیار رہیں۔3