افغانستان میں خواتین سفری پابندیوں کا شکار

   

کابل : افغانستان میں طالبان کے اقتدار کے بعد سے شرعی قوانین نافذ ہیں، جس کے تحت خواتین کو محرم کے بغیر سفر کی بھی اجازت نہیں ہے۔ یہ پابندی ان کی سماجی ، مذہبی اور روزمرہ کی زندگی پر بری طرح اثرانداز ہورہی ہے۔ طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد سے، افغان خواتین کو طویل سفر پر جانے، ہوائی جہاز میں سفر کرنے حتٰی کہ سرکاری عمارتوں میں داخل ہونے سے اْس وقت تک روک دیا گیا ہے جب تک کہ ان کے ساتھ کوئی مرد نہ ہو۔ طالبان حکومت کی اسلامی قانون کی سخت تشریح کے تحت، افغان معاشرے میں طویل عرصہ سے سفر میں محرم کا ساتھ ہونا لازمی ہے۔ مریم ( فرضی نام) کی ایک طالبہ اوران کی ایک سہیلی کو کابل میں ان کی سابقہ یونیورسٹی کے حالیہ دورے پر، ضروری دستاویزات جمع کرنے کے لیے عمارت میں داخل ہونے سے روک دیا گیا۔ وجہ یہ تھی کہ اْن کے ساتھ کوئی محرم نہیں تھا۔ انہوں نے اے ایف پی کو انٹرویو میں کہا کہ لیکن میرا بھائی کام پر تھا، میری دوست کا بھائی کم عمر ہے اور اس کے والد کا انتقال ہوچکا ہے۔ مریم نے مزید کہا کہ میں نے سڑک پر ایک لڑکے کو دیکھا اور وہ ہماری مدد کرنے پر راضی ہو گیا۔ ہم نے اندر داخل ہونے کے لیے ہمت کرکے اسے اپنے بھائی کے طور پیش کیا۔