افغانستان میں میڈیکل سپلائیز کی قلت کا اندیشہ

   

نیویارک۔ عالمی ادارہ صحت، ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ جنگ سے تباہ حال ملک افغانستان میں لاکھوں لوگوں کی صحت سے متعلق ضروریات پوری کرنے کے لئے صرف چند روز کی میڈیکل سپلائیز باقی رہ گئی ہیں۔ جمعرات کے روز کابل ایئرپورٹ پر داعش خراسان کے جنگجوؤں کی جانب سے خود کش حملے کے بعد، خاص طور پر ٹراما کٹس کی مانگ بڑھ گئی ہے۔ جمعرات کو ہوئے اس حملے میں ایک سو سے زیادہ لوگ ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے تھے، جس سے ہسپتالوں پر دباو میں اضافہ ہو گیا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ ہسپتالوں اور دوا خانوں کے لئے صحت سے متعلق ایمرجنسی کٹس، جن میں ہنگامی صورت سے نمٹنے کی ادویات اور دوسرا سامان ہو، غذائیت کی شدید کمی کا شکار بچوں کے لئے صحت بخش غذا اور کرونا وائرس کو کنٹرول کرنے والے ساز و سامان کی بھی قلت ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مشرقی بحیرہ روم کے خطے کے ایمرجنسی ڈائریکٹر رک برینن کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی خدشات کے سبب کمرشل طیاروں کو کابل ایئرپورٹ پر اترنے کی اجازت نہیں۔ اس لئے عالمی ادارہ صحت افغانستان میں ادویات وغیرہ لانے کے لئے دوسرے ذریعہ تلاش کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسا کرنے میں سیکوریٹی اور نقل و حمل سے متعلق بہت سی رکاوٹیں ہیں۔ لیکن ہمیں امید ہے اور ہم توقع کر رہے ہیں کہ آنے والے دنوں میں حکومت پاکستان کی مدد سے طبی ساز و سامان افغانستان میں لایا جا سکے گا۔