حیدرآباد۔/24جنوری، ( سیاست نیوز) تلنگانہ ہائی کورٹ نے تلنگانہ اقامتی تعلیمی اداروں کے ریکروٹمنٹ بورڈ کے صدرنشین کو 20 مارچ کو شخصی طور پر حاضرعدالت ہونے کی ہدایت دی ہے۔ عدالت نے سابق میں احکامات پر عمل نہ کرنے پر ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ عدالت نے کہا تھا کہ سرکاری اسکولوں میں ٹیچرس کے تقررات کے موقع پر بی ٹیک گریجویٹس کو دیگر گریجویٹس کے مماثل تصور کیا جائے۔ چیف جسٹس اجل بھویاں اور جسٹس این تکا رام جی پر مشتمل ڈیویژنل بنچ نے بی ٹیک گریجویٹس کی درخواست پر عبوری احکامات جاری کئے۔ بی ٹیک گریجویٹس کو ٹرینڈ گریجویٹ ٹیچرس کے مماثل قرار دینے کی درخواست کی گئی ہے۔ درخواست گذاروں نے عدالتی احکامات کو نظرانداز کرنے پر آئی اے ایس عہدیدار رونالڈ راس کے خلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کی ہے۔ واضح رہے کہ حکومت نے عدالت کے سابقہ احکامات کے خلاف درخواست نظرِ ثانی داخل کی ہے۔ درخواست گذاروں کے وکیل نے بتایا کہ بی ٹیک گریجویٹس کو ٹیچرس کے طور پر منتخب کیا گیا لیکن ہائی کورٹ کے احکامات کے باوجود انہیں پوسٹنگ نہیں دی گئی اور نہ ہی انہیں احکامات تقرر حوالے کئے گئے۔ سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ اسکولوں میں میاتھس کی تعلیم کیلئے بی ایس سی میاتھس امیدوار موزوں ہیں۔ انہوں نے حکومت کی جانب سے ریویو پٹیشن داخل کرنے کی اطلاع دی۔ سرکاری وکیل نے کہا کہ ریکروٹمنٹ بورڈ کیلئے مستقل صدرنشین کے طور پر ایم بٹو کا تقرر کیا گیا ہے لہذا شخصی طور پر حاضری کا اطلاق رونالڈ راس پر نہیں ہوگا۔ر