اقتدار سے محروم سیاسی جماعتیں ہی ٹوٹ پھوٹ کا شکار کیوں ؟

   

شیکھر گپتا
ملک میں آج کل مختلف سیاسی جماعتوں بالخصوص اپوزیشن جماعتوں میں بڑے پیمانہ پر انحراف کا سلسلہ چل پڑا اور سب سے اہم بات یہ ہیکہ انحراف کرنے والے تمام ارکان پارلیمنٹ یا ارکان اسمبلی نے اپنی اپنی سیاسی جماعتوں سے انحراف کرتے ہوئے بی جے پی میں شمولیت اختیار کی ۔ موجودہ صورتحال میں تین ایک دوسرے سے جڑے سیاسی سوالات پیدا ہورہے ہیں ۔ پہلا سوال تو یہ کہ آخر سیاسی جماعتوں میں پھوٹ کیوں پیدا ہورہی ہے ؟ آخر سیاسی قائدین انفرادی طورپر انحراف کیوں کرتے ہیں ؟ آیا اس معاملہ میں نظریہ یا آئیڈیالوجی ، اُصول یہاں تک کہ وفاداری کچھ اہمیت رکھتی ہے ؟
پھر یہ تمام ایک مرکزی منطقی سوال کی طرف جاتے ہیں کہ آخر چند سیاسی جماعتیں کیوں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوتی ہیں یا پوری طرح مفلوج ہوکر رہ جاتی ہیں یعنی ایک طرح سے ختم ہوکر رہ جاتی ہیں لیکن بعض سیاسی جماعتوں پر مخالف کی کاروائیوں یا الفاظ دیگر آپریشن کا کوئی اثر نہیں ہوتا ۔ بہرحال حالیہ مہینوں میں سارے ملک نے دیکھا کہ کئی ایک اپوزیشن جماعتوں کو ٹوٹ پھوٹ کا شکار بنادیا گیا۔ مثال کے طورپر مغربی بنگال اسمبلی انتخابات کے بعد ممتا بنرجی کی ترنمول کانگریس کو پوری طرح توڑ دیا گیا ۔60 ارکان اسمبلی اور 20 ارکان پارلیمان کا انحراف کوئی معمولی بات نہیں ۔ بنرجی کی پارٹی کو ایک طرح سے مکمل طورپر تباہ کردیا یا اس میں اندرونی بغاوت کو ہوا دی گئی ۔ اس بارے میں جو خبریں اور رپورٹس شائع کی گئیں وہ شہ سرخیوں میں دیکھی گئیں لیکن ایسا لگتا ہیکہ ہمارے ملک میں پارٹیوں کو توڑنے ، اُن کا شیرازہ بکھیرنے کا مقابلہ چل رہا ہے ۔ مثال کے طورپر شیوسینا ( اُدھو ٹھاکرے ) میں پھر تقسیم ہورہی ہے ۔
دوسری طرف حالیہ عرصہ کے دوران ہم اور آپ سب نے دیکھا کہ چھارکھنڈ میں انڈیا اتحاد کے ارکان اسمبلی نے این ڈی اے کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار پریمل نتھوانی کے حق میں کراس ووٹنگ کی ۔ اس طرح نتھوانی آزاد امیدوار ہونے کے باوجود کامیاب ہوگئے ۔ ہاں کانگریس کو کرناٹک ایم ایل سی الیکشن میں کچھ دلاسہ ملا جب ڈی کے شیوکمار چند این ڈی اے ارکان کی تائید وحمایت حاصل کرنے میں کامیاب رہی اس طرح وہاں این ڈی اے ارکان نے کراس ووٹنگ کی ۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہوگا کہ عام آدمی پارٹی پہلے ہی سے اپنے 7 ارکان راجیہ سبھا سے محروم ہوچکی ہے ۔ اس کے ان 7 ارکان پارلیمان نے پارٹی سے بغاوت کرتے ہوئے این ڈی اے میں شمولیت کا اعلان کیا ۔ ایسے ہی اڈیشہ کی بیجوجنتادل کے 3 ارکان پارلیمان بی جے پی کی جھولی میں آگرے ۔ زیادہ عرصہ نہیں گذرا جب وائی ایس جگن موہن ریڈی کی وائی ایس آر سی پی ( یوجنا سرامیکاررعیتو کانگریس پارٹی ) کو بھی اپنے چند ارکان پارلیمان سے محروم ہونا پڑا اور ان لوگوں نے این ڈی اے کے ارکان پارلیمان کی تعداد میں اضافہ کیا ۔ اس طرح شرومنی اکالی دل کی ایک مذہبی چھاپ ہونے کے باوجود اسے بھی انحراف کا سامنا کرنا پڑا ۔ من پریت سنگھ بادل منحرفین میں شامل تھے ۔ منحرفین میں منجندر سنگھ سرسا کی مثال بھی پیش کی جاسکتی ہے ۔ اب وہ دہلی میں وزیر ہیں۔
اگر راقم انحراف کرکے کانگریس سے بی جے پی میں شامل ہونے والوں کی فہرست تیار کرنا شروع کردیں تو یہ کالم بھی کافی نہیں ہوگی ۔ ایسے میں ہم خود کو ان سیاسی قائدین تک محدود رکھیں گے جنھیں مختلف سیاسی جماعتوں سے انحراف کے تحفہ میں چیف منسٹرس کے عہدے دیئے گئے یا پھر مرکزی کابینہ میں شامل کیا گیا ۔ یہ وہ قائدین ہیں جو کبھی کانگریس کے چیف منسٹر ہوا کرتے تھے ۔ ویسے بھی چیف منسٹر کا عہدہ وہ اعلیٰ عہدہ ہے جو کوئی پارٹی دے سکتی ہے ۔ منحرفین کو اس سے بڑا کوئی عہدہ ہی نہیں دیاجاسکتا ۔
آپ کو یہ بتادوں کہ بی جے پی کے کم از کم تین چیف منسٹرس کو کانگریس سے امپورٹ کیا گیا ۔ ان میں ہمنتا بسوا سرما ( آسام ) ، پیماکھنڈا ( اروناچل پردیش ) اور مانک ساہا (تریپورہ ) شامل ہیں۔ جہاں تک این بیرین سنگھ کا سوال ہے اور جنھوں نے منی پور کے چیف منسٹرس کی حیثیت سے خدمات انجام دینے کا اعزاز حاصل کیا اور ان کے دور میں ہی منی پور جل رہا تھا اور جہاں قتل و غارت گری کے ناقابل تصور و ناقابل بیان واقعات پیش آئے تھے ۔ یہ تمام چاروں قائدین کانگریس میں کلیدی عہدوں پر فائز تھے ۔
اب چلتے ہیں مودی جی کی وزارتی کونسل کی طرف اس میں آپ کو جیوترادتیہ سندھیا ، کرن رجیجو ، راؤ اندرجیت سنگھ ، جتن پرساد اور ونیت سنگھ بٹو نظر آئیں گے ۔ جنھوں نے دوسری جماعتوں سے انحراف کرکے بی جے پی میں شمولیت اختیار کرلی تھی باالفاظ دیگر ان میں سے بیشتر نے کانگریس سے انحراف کیا ۔ اگر ہم کانگریس کے ان سابق چیف منسٹروں کی بات کرتے ہیں جنھوں نے ملک کی سب سے قدیم سیاسی جماعت ( کانگریس ) سے انحراف کیا اور بی جے پی میں شمولیت اختیار کی ۔ اگر ان لوگوں کو جمع کرلیا جائے تو باآسانی ایک فٹبال ٹیم بن سکتی ہے ۔ اس ضمن میں ہم کیپٹن امریندر سنگھ ، پیما کھنڈو ، اشوک چوان ، ایس ایم کرشنا ، نارائن دت تیواری ، ڈگمبر کامت ، کرن کمار ریڈی ، وجئے بہوگنا وغیرہ وغیرہ کی مثالیں پیش کرتے ہیں ۔
یہ کہنا بیجا نہ ہوگا کہ تمام سیاسی جماعتوں کے Losers کیلئے بی جے پی ایک مقناطیسی کشش رکھنے والی پارٹی ہے اور یہی وجہ ہے کہ بی جے پی سام ، دام ، ڈنڈ اور بھید حریف جماعتوں کو توڑنے اور ان کا شیرازہ بکھیرنے کیلئے استعمال کرتی ہے ۔ بی جے پی سب سے پہلے ان سیاسی قائدین پر نظر رکھتی ہے جن پر کرپشن کے الزامات عائد ہوتے ہیں اور یہ الزامات اس یکطرفہ منتقلی کی کلید ہے ۔ بڑے پیمانہ پر انحراف کی حوصلہ افزائی یا انحراف کو ہوا دینے بی جے پی کے پاس پھوٹ ڈالنے کا ایک زبردست طریقہ ہے ۔ قانون انسداد انحراف سے بچنے کیلئے ارکان کی دو تہائی اکثریت کا ہونا ضروری ہے کیونکہ اگر کسی بھی سیاسی جماعت سے ارکان کی دو تہائی اکثریت انحراف کرتی ہے تو وہ نہ صرف قانون انسداد انحراف سے بچ سکتے ہیں بلکہ یہ دعویٰ بھی کرسکتے ہیں کہ ہم ہی اصل پارٹی ہے ۔
یہ رجحان ہمیں دو سوالات کی طرف لے جاتا ہے ۔ پہلا سوال یہ کہ آیا حریف جماعتوں کو توڑنے کا یہ عمل پہلی مرتبہ شروع کیا گیاہے؟ اوردوسرا سوال یہ ہے کہ ہم نے سطور بالا میں جو سوال اُٹھایا تھا آخر کیوں اکثر و بیشتر جماعتیں باصلاحیت قائدین کو توڑتی ہیں یا ان سے محروم ہوجاتے ہیں لیکن بعض سیاسی جماعتوں میں ایسا نہیں ہوتا ہے ۔ یہ سب کچھ ایسے وقت ہوتا ہے جب یہ پارٹیاں ایک طویل عرصہ سے اقتدار سے باہر رہتی ہیں۔ ماضی میں کانگریس کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ وہ اس کھیل کی ماہر تھی اور بومائی کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلہ ( 11 مارچ 1994 ) تک کانگریس نے دفعہ 356 کا حریف سیاسی جماعتوں کی حکومتوں کو گرانے کیلئے بہت زیادہ استعمال کیا ۔ اب کچھ فرق آگیا ہے ۔ بی جے پی یہی کام صنعتی پیمانہ پر کررہی ہے ۔ فی الوقت بی جے پی کا روائیوں سے اکھلیش یادو کی سماج وادی پارٹی اور کمیونسٹ جماعتیں محفوظ ہیں ۔ ان جماعتوں میں داخلی اتحاد بہت مضبوط ہے ۔ ہاں ایک بات ضرور ہے کہ کمیونسٹ جماعتیں فی الوقت ایک بھی ریاست میں اقتدار میں نہیں ہیں جو تاریخ کی نچلی سطح پر ہے ۔
اگر ہم کانگریس کی بات کرتے ہیں 2014ء میں کانگریس نے اپنی تاریخ کا بدترین مظاہرہ کیا ۔ ان عام انتخابات میں اُس کے صرف 44 امیدوار لوک سبھا کیلئے منتخب ہوئے ۔ 1984 ء کے عام انتخابات میں بی جے پی صرف 2 حلقوں تک محدود ہوکر رہ گئی لیکن آج وہ اقتدار میں ہے۔ حقیقت میں 75برسوں سے جب بی جے پی ( بھارتیہ جن سنگھ کی شکل میں ) کا قیام عمل میں آیا تب سے 2014ء تک صرف 6 برسوں تک اقتدار میں رہی لیکن اس میں کوئی پھوٹ نہیں پڑی ہاں مختصر سے عرصہ کیلئے گجرات میں شنکر سنہ واگھیلا نے بغاوت کی اس کے برعکس کانگریس کئی مرتبہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوئی ۔