پارٹی کے ایس سی ، ایس ٹی ، اقلیت اور بی سی ڈپارٹمنٹس کے ساتھ اجلاس، حکومت اور پارٹی میں بہتر تال میل کا مشورہ
حیدرآباد۔/24 جنوری، ( سیاست نیوز) اقلیتوں اور دیگر کمزور طبقات سے کانگریس پارٹی نے جو انتخابی وعدے کئے ان کی تکمیل میں چیف منسٹر ریونت ریڈی سنجیدہ ہیں اور آئندہ بجٹ میں درکار فنڈز مختص کئے جائیں گے۔ ایس سی، ایس ٹی اور بی سی طبقات کی طرح اقلیتی بہبود کیلئے بھی علحدہ سب پلان حکومت کی ترحیجات میں شامل ہیں تاکہ مکمل بجٹ خرچ کیا جاسکے۔ حکومت کے مشیر برائے اقلیت و دیگر طبقات محمد علی شبیر نے آج گاندھی بھون میں پارٹی کے مختلف ڈپارٹمنٹس کے سربراہوں سے اجلاس منعقد کرتے ہوئے بجٹ کی تیاریوں سے واقف کرایا۔ ایس سی ڈپارٹمنٹ کے صدرنشین پریتم، او بی سی ڈپارٹمنٹ کے این سریکانت، ایس ٹی ڈپارٹمنٹ کے سربراہ بلیا نائیک اور میناریٹی ڈپارٹمنٹ کے ارشد شیخ کے علاوہ حیدرآباد ضلع کانگریس کمیٹی کے صدر سمیر ولی اللہ اجلاس میں شریک تھے۔ کانگریس کی جانب سے کمزور طبقات اور اقلیتوں کیلئے جاری کردہ ڈیکلریشن کے عین مطابق بجٹ میں فنڈز مختص کرنے کی حکومت سے اپیل کی گئی۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے محمد علی شبیر نے کہا کہ چیف منسٹر چاہتے ہیں کہ انتخابی وعدوں پر جلد عمل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ علحدہ ڈیکلریشن کے علاوہ انتخابی منشور میں کئے گئے وعدوں کی تکمیل کی جائے گی۔ محمد علی شبیر نے بتایا کہ عنقریب وزیر فینانس بھٹی وکرامارکا کے ہمراہ مختلف طبقات کے سرکاری محکمہ جات کے سکریٹریز کے ساتھ اجلاس منعقد کیا جائے گا۔ وعدوں کی تکمیل کے سلسلہ میں حکومت اور پارٹی میں بہتر تال میل چیف منسٹر کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ فلاحی اسکیمات کے بارے میں عنقریب سکریٹریز کے ساتھ جائزہ اجلاس منعقد کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اسکالر شپس اور فیس ری ایمبرسمنٹ بجٹ کی فی الفور اجرائی کو یقینی بنایا جائے گا۔ ایس سی ، ایس ٹی، بی سی اور اقلیت کی سماجی، معاشی و تعلیمی ترقی کے اقدامات کئے جائیں گے۔ حکومت 100 دن میں ضمانتوں پر عمل آوری کا فیصلہ کرچکی ہے۔ ایک سوال کے جواب میں محمد علی شبیر نے کہا کہ کے سی آر نے 5 سال تک اقلیتی بہبود کا قلمدان اپنے پاس رکھا تھا۔ وجئے بھاسکر ریڈی دور حکومت میں بھی اقلیتی بہبود کا قلمدان چیف منسٹر کے پاس رہا۔ ریونت ریڈی کے تحت اقلیتی بہبود کا قلمدان ہے لہذا بجٹ کی اجرائی میں کوئی رکاوٹ نہیں ہوگی۔ کے ٹی آر کی جانب سے کانگریس کے تیقنات کو 420 قرار دینے کی مذمت کرتے ہوئے محمد علی شبیر نے کہا کہ حکومت نے 100 دن میں ضمانتوں پر عمل آوری کا وعدہ کیا ہے لیکن بی آر ایس کو ابھی سے بے چینی ہے۔ جو قائدین خود 420 ہیں وہ کانگریس پر الزام تراشی کررہے ہیں۔ مسلمانوں اور درج فہرست قبائیل کو 12 فیصد تحفظات پر 10 برسوں تک دھوکہ دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ میڈی گڈہ اور انارم بیاریج کی ناقص تعمیر کیلئے ذمہ دار سیاستدانوں اور عہدیداروں کے خلاف کریمنل کیس درج کرتے ہوئے رقومات وصول کرنی چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے مشیر کے طور پر وہ اقلیتوں اور دیگر طبقات کی بھلائی کے لئے حکومت کو تجاویز پیش کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی 6 ضمانتوں کے فوائد سے عوام کو واقف کرائے گی۔1
ہائی اسکول طلبہ کے لیے لاسا لمسا کوئز مقابلہ
حیدرآباد ۔ 24 ۔ جنوری : ( پریس نوٹ) : ہائی اسکول کے لڑکے / لڑکیوں کے لیے جنرل نالج سوالات کا لاسا لمسا کوئیز مقابلہ ہفتہ 27 جنوری کو صبح دس بجے میڈیا پلس آڈیٹوریم عابڈس پر مقرر ہے ۔ ہر اسکول سے دو ٹیمیں لڑلے لڑکیوں کی الگ الگ شرکت کرسکتی ہیں ۔ کنوینر ایم اے حمید کے بموجب نیلگری ٹی ایمپوریم لاسا چائے لمسا چائے اس کو اسپانسر کرتی ہے ۔ فائنل مقابلہ اتوار 3 بجے دن ہوٹل پیالیس ہائیٹ عابڈس پر ہوگا ۔۔