اقلیتوں سے حکومت کی بے اعتنائی ، آخر ذمہ دار کون …؟

   


وقف بورڈ ، اقلیتی مالیاتی کارپوریشن کے بشمول دیگر ادارہ جات کی ترقی مکمل ٹھپ ، مسلمانوں میں ناراضگی
حیدرآباد ۔24 ۔ اکتوبر (سیاست نیوز) حکومت تلنگانہ کی اقلیتوں کے متعلق بے اعتنائی و لاپرواہی کیلئے ذمہ دار کون ہے؟ ریاستی حکومت کی جانب سے ریاست میں اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے امور کے متعلق اختیار کردہ عہدیداروں کے رویہ سے نہ صرف مسلمان بلکہ اب تو مسلم منتخبہ نمائندوں میں بھی شدید ناراضگی پائی جانے لگی ہے۔ محکمہ اقلیتی بہبود کے تحت خدمات انجام دینے والے اداروں تلنگانہ ریاستی وقف بورڈ ، تلنگانہ اقلیتی مالیاتی کارپوریشن ، تلنگانہ ریاستی اردو اکیڈیمی ، تلنگانہ اسٹڈی سرکل برائے اقلیتی بہبود کے علاوہ دیگر ادارہ جات کی کارکردگی ٹھپ ہوچکی ہے اور اس سلسلہ میں عہدیداروں اور متعلقہ وزیر سے کی جانے والی نمائندگیاں بے اثر ثابت ہورہی ہیں۔ ریاستی حکومت کی جانب سے ان اداروں کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لئے اقدامات نہ کئے جانے سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ریاستی حکومت خود نہیں چاہتی کہ اقلیتوں کی ترقی و بہبود کے اقدامات کو یقینی بنایا جائے۔ تلنگانہ راشٹرا سمیتی نے تشکیل تلنگانہ سے قبل ریاست بھر میں مسلمانوں کو مساوی ترقیاتی مواقع فراہم کرنے کا اعلان کیا تھا لیکن تشکیل تلنگانہ کے 8 برس گزرنے کے باوجود ریاست میں مسلمانوں کی ترقی کے سلسلہ میں کوئی مستحکم و منظم پروگرام پر عمل آوری نہیں کی گئی بلکہ محض اعلانات کی حد تک مسلمانوں کی ترقی کو محدود رکھا گیا۔حکومت تلنگانہ کی جانب سے دلتوں کے لئے دلت بندھو کے علاوہ دیگر کئی اسکیمات کا اعلان کیا گیا جن میں دلت صنعت کاروں کی امداد کی اسکیم بھی شامل ہے اور اس پر مؤثر عمل آوری کی جارہی ہے۔ اس کے برعکس ریاست میں مسلمانوں کے لئے ٹی ۔پرائم کے نام سے حکومت سے مسلم صنعت کاروں کی مدد کے لئے منصوبہ کا اعلان کیا تھا لیکن اس پر کوئی عمل آوری نہیں کی گئی۔ اسی طرح تلنگانہ ریاستی وقف بورڈ کی کارکردگی کو بہتر بنانے کیلئے ریاستی حکومت نے عدالت میں سال 2018 ء کے دوران داخل کی گئی ایک رٹ درخواست کے جواب میں مستقل سی ای او کی فراہمی کو یقینی بنانے کا تیقن دیا تھا لیکن تاحال وقف بورڈ میں مستقل چیف اگزیکیٹیو آفیسر کے تقرر کے اقدامات نہیں کئے گئے جس کے نتیجہ میں وقف بورڈ کی کارکردگی متاثر ہورہی ہے ۔ اسی طرح تلنگانہ ریاستی اقلیتی مالیاتی کارپوریشن کے ذریعہ نئی اسکیمات کے آغاز بالخصوص راست قرضہ جات کی فراہمی کے اقدامات کا اعلان کیا گیا تھا لیکن اس مقصد کے لئے بجٹ کی تخصیص عمل میں نہیں لائی گئی ۔ تلنگانہ اسٹڈی سرکل کے ذریعہ اقلیتی نوجوانوں کو مختلف مسابقتی کورسس کیلئے تربیت کی فراہمی کے اقدامات کئے گئے لیکن کروڑہا روپئے کے اخراجات کے باوجود اسٹڈی سرکل کے نتائج صفر رہے جبکہ ایس سی ، ایس ٹی اور بی سی اسٹڈی سرکل کے نتائج مثبت برآمد ہوتے رہے ہیں۔ ریاست میں اقلیتوں کیلئے کئے جانے والے اقدامات کے سلسلہ میں حکومت کی جانب سے محض تلنگانہ اقلیتی اقامتی اسکولوں میں تعلیم حاصل کر رہے طلبہ و طالبات کے اعداد و شمار پیش کئے جاتے ہیں جبکہ ان کے معیار تعلیم کے متعلق بھی کئی شبہات پیدا ہوچکے ہیں لیکن اس کے باوجود ریاستی حکومت اقلیتوں کی فلاح و بہبود کے معاملہ میں لاپرواہی کا مظاہرہ کر رہی ہے۔ منتخبہ عوامی نمائندوں بالخصوص مسلم نمائندوں کا احساس ہے کہ ریاستی حکومت کی جانب سے مسلمانوں کو نظر انداز کیا جانے لگا ہے جبکہ برسر اقتدار جماعت سے تعلق رکھنے والے مسلم قائدین و نمائندوں کا کہنا ہے کہ ریاستی حکومت میں شامل اعلیٰ عہدیدار حکومت کی بدنامی کا سبب بن رہے ہیں۔م