پرانے شہر میں میٹرو ٹرین کی منظوری ، کلکٹوریٹ آفس کی تعمیر کا اعلان ، ایوان اسمبلی میں چیف منسٹر کا بیان
حیدرآباد۔9۔فروری(سیاست نیوز) ریاستی حکومت اقلیتوں کو ان کے جائز حقوق کی فراہمی کے ساتھ ساتھ ان کی جامع ترقی کے منصوبہ پر عمل آوری کو یقینی بنانے کے اقدامات کر رہی ہے۔ حکومت پرانے شہر کی ترقی کے لئے پرانے شہر میں میٹرو ریل کے کاموں کے آغاز کو منظوری دے چکی ہے اس کے علاوہ موسیٰ ندی کو خوبصورت بنانے کے پراجکٹ پر کام کیا جا رہاہے۔شہر حیدرآباد میں ایک نئے کلکٹر آفس کے قیام کے لئے اقدامات کئے جائیں گے۔ ماہ رمضان المبارک کے دوران شہر میں رات دیر گئے تک کاروباری اداروں کو کھلا رکھنے کے سلسلہ میں کی گئی نمائندگی پر حکومت کی جانب سے جلد فیصلہ کیا جائے گا۔ چیف منسٹر اے ریونت ریڈی نے آج ایوان اسمبلی میں گورنر کے خطبہ پر تحریک تشکر مباحث کا جواب دیتے ہوئے ان خیالا ت کا اظہار کیا اور کہا کہ تلنگانہ میں کانگریس نے اقتدار حاصل کرنے کے بعد اقلیتوں کی ترقی کے سلسلہ میں متعدد اقدامات کئے ہیں اور مزید اقدامات کے سلسلہ میں موصول ہونے والی تجاویز کا جائزہ لیتے ہوئے ریاستی حکومت ان پر عمل آوری کو یقینی بنائے گی۔ چیف منسٹر نے ایوان اسمبلی میں ریاستی حکومت کی جانب سے مسلمانوں کی فراہم کی جانے والی نمائندگیوں کے سلسلہ میں کہا کہ کانگریس نے اقتدار حاصل کرنے کے بعد گورنر کوٹہ میں اقلیتی طبقہ سے قانون ساز کونسل میں نمائندگی کی فراہمی کے علاوہ ریاستی حکومت کے مشیرکے طور پر اقلیتی طبقہ سے تعلق رکھنے والے سابق ریاستی وزیر محمد علی شبیر کو مشیر حکومت کے طور پر نامزد کیا ہے ‘ اسی طرح تلنگانہ ہائی کورٹ میں ریاستی حکومت کی نمائندگی کے لئے اڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل کے طور پر عمران خان ایڈوکیٹ کے تقرر کے اقدامات کئے گئے ہیں۔ چیف منسٹر نے وائس چانسلرس کے انتخاب میں بھی مسلم طبقہ سے ایک وائس چانسلر کے انتخاب کو یقینی بنانے کا تیقن دیتے ہوئے کہا کہ ریاستی حکومت کی جانب سے ریاستی جامعات میں وائس چانسلر کے عہدہ پر تقررات کے لئے سرچ کمیٹی تشکیل دی جاچکی ہے ۔چیف منسٹر نے تلنگانہ ریاستی پبلک سروس کمیشن کی تشکیل میں ماہر معاشیات پروفیسر عامر اللہ خان کی نامزدگی کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی حکومت نے کمیشن میں بھی اقلیتوں کو نمائندگی فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ دیگر اداروںمیں بھی اقلیتی قائدین کے تقرر کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔ چیف منسٹر اے ریونت ریڈی نے کہا کہ ریاستی اسمبلی میں قائد ایوان مقننہ مجلس پارٹی جناب اکبر الدین اویسی نے جو مسائل اٹھائے ہیں ان کے
حل کے سلسلہ میں وہ اقدامات کریں گے اور انہوں نے اکبر الدین اویسی کی جانب سے حکومت کی ستائش پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ انہیں توقع ہے کہ وہ آئندہ بھی حکومت کے اچھے کاموں کی یوں ہی ستائش کرتے رہیں گے۔ مسٹر اے ریونت ریڈی نے کہا کہ ریاستی حکومت کسی بھی گوشہ سے موصول ہونے والے اچھے مشوروں کو قبول کرتے ہوئے ان پر عمل آوری کے لئے تیار ہے۔ انہوں نے بتایا کہ شہر کے ٹریفک مسائل کے حل کے سلسلہ میں شہر سے تعلق رکھنے والے ارکان اسمبلی کے ہمراہ اجلاس منعقد کرنے کا تیقن دیتے ہوئے کہا کہ شہر کے ٹریفک مسائل کے حل کے لئے وہ خود اس سلسلہ میں پیشرفت کرچکے ہیں۔ چیف منسٹر نے کہا کہ پرانے شہر کی ترقی اور خوبصورتی کو یقینی بنانے کے اقدامات کے طور پر حکومت نے موسیٰ ندی پراجکٹ کے کاموں پر توجہ دینی شروع کردی ہے اور اسے ایک عالمی معیار کے پراجکٹ کے طور پر ترقی دینے کے اقدامات کئے جارہے ہیں۔ انہوں نے پرانے شہر میں میٹرو ریل راہداری کی تعمیر کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ میٹروریل کے پرانے شہر سے گذرنے کے نتیجہ میں نہ صرف پرانے شہر کے عوام کو سہولت حاصل ہوگی بلکہ پرانے شہر کے ان تمام علاقوں کی ترقی یقینی ہوگی جو علاقے میٹرو ریل کی گذرگاہوں سے مربوط ہوں گے۔ انہو ںنے بتایا کہ حکومت پرانے شہر اور اقلیتوں کے کسی بھی مسئلہ کو نظرانداز نہیں کرے گی بلکہ ریاست کے اقلیتوں کے مسائل اور پرانے شہر کے مسائل کے حل کے معاملہ میں سنجیدہ اقدامات کئے جاتے رہیں گے۔3