اقلیتوں کی مجموعی ترقی، تحفظ اور ساجھے داری کو یقینی بنانے کا وعدہ

   

مسلم ووٹ کا متحدہ استعمال 2024 میں مودی کو شکست دینے میں معاون، عمران پرتاپ، ضمیراحمد، ناصر حسین، کلیم احمد، شکیل احمد اور دیگر کا خطاب

حیدرآباد۔11۔نومبر(سیاست نیوز) تلنگانہ میں کانگریس کے اقتدار کی صورت میں اقلیتوں کی مجموعی ترقی‘ تحفظ کی فراہمی اور انہیں حکومت میں مکمل ساجھے داری کو یقینی بنایا جائے گا ۔اقلیتی طبقات سے تعلق رکھنے والی بااثر شخصیات اور دانشوروں کی کانگریس قائدین سے ملاقات کے دوران کانگریس قائدین مسٹر مانک راؤ ٹھاکرے کے علاوہ دیگر قائدین نے ان خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پڑوسی ریاست کرناٹک میں کانگریس نے اقتدار حاصل کرنے کے بعد 9 منتخبہ مسلم ارکان اسمبلی میں 5کو حکومت میں شامل کرتے ہوئے حصہ دار بنایا ہے جن میں اسپیکر اسمبلی جناب یو ٹی عبدالقادر بھی شامل ہیں۔ریاستی وزیر کرناٹک جناب بی ضمیر احمد خان‘ جناب عمران پرتاپ گڑھی رکن راجیہ سبھا و صدرنشین قومی اقلیتی کانگریس ڈپارٹمنٹ‘ جناب شکیل احمدفلور لیڈر بہار اسمبلی ‘ جناب سلیم احمد‘ جناب ناصر حسین رکن راجیہ سبھا‘ جناب منصورعلی خان‘ جناب اجئے کمار ‘مولاناغلام سید شاہ خسرو بیابانی ‘ جناب ظفر جاوید‘ محترمہ سارہ میتھیوز کے علاوہ دیگر کئی قائدین اس مشاورتی اجلاس میں موجود تھے۔ جناب بی ضمیر احمد خان نے بتایا کہ مسلمانوں کے ووٹ کی اہمیت اپنی جگہ مسلمہ ہے اور مسلم ووٹ کا متحدہ استعمال 2024 کے انتخابی نتائج کو تبدیل کرنے اور بی جے پی کی شکست کو یقینی بنانے کا سبب بن سکتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ریاست تلنگانہ میں کے سی آر ‘ بھارتیہ جنتا پارٹی کے یار کے طور پر کام کر رہے ہیں اسی لئے ان کے خاندان کے خلاف کوئی کاروائی نہیں ہوتی اور جو لوگ کے سی آر کا ساتھ دے رہے ہیں کہ وہ دراصل مسلمانوں کو گمراہ کررہے ہیں۔ جناب ضمیر احمد خان نے بتایا کہ کرناٹک میں اقتدار کی تبدیلی کے ساتھ ہی حالات پر امن ہوچکے ہیں اور کوئی شدت پسند طاقت سر اٹھانے کی جرأت نہیں کر رہی ہے حالانکہ کانگریس نے محض مسلمانوں کو حاصل ان کے حقوق دینے کی ابتداء کی ہے۔ انہوں نے مسلم بااثر شخصیات سے اپیل کی کہ وہ تلنگانہ میں مسلمانوں کے ساتھ سماجی انصاف اور حکومت میں ان کی ساجھے داری کے لئے متحدہ طور پر کانگریس کے حق میں ووٹ کے استعمال کو یقینی بنانے میں مدد کریں۔جناب عمران پرتاپ گڑھی نے مسلم ‘ سکھ ‘ عیسائی اور دیگر اقلیتی طبقات کے دانشوروں کے اس اجلاس سے خطاب کے دوران کہا کہ مسلمان اگر متحدہ طور پر اپنے ووٹ کا استعمال کرنے کی شروعات کردیں تو ایسی صورت میں خواہ کوئی سیاسی جماعت ہو وہ ان کی طاقت کے آگے سرنگوں ہوگی۔ انہوں نے بتایا کہ کانگریس پارٹی کے مسلم قائدین اگر مسلمانوں کے مسائل نہیں اٹھاتے ہیں تو یہ ان کا اپنا مسئلہ ہے جبکہ پارٹی نے کبھی کسی مسلم قائد کو کسی مسئلہ پر خاموش رہنے کے لئے نہیں کہا بلکہ پارٹی چاہتی ہے کہ کسی بھی مسئلہ میں کانگریس تمام طبقات کے ساتھ کھڑی ہو۔ عمران پرتاپ گڑھی نے کہا کہ وہ اس اجلاس کے دوران اقلیتی طبقہ سے تعلق رکھنے والی تمام بااثر شخصیات اور دانشوروں کو اس بات کی یقین دلاتے ہیں کہ کانگریس کی جانب سے کئے گئے وعدوں میں کسی ایک بھی وعدہ کو اگر پورا نہیں کیا جاتا ہے تو وہ ان کا گریباں پکڑیں۔ انہوں نے اپنے خطاب کے دوران مجلس پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کرناٹک انتخابات میں شکست کے ساتھ ہی وزیر اعظم نریندر مودی آسٹریلیائکے لئے روانہ ہوئے اور ان پہلے صدر مجلس بیرسٹراسدالدین اویسی آسٹریلیاء میں موجود تھے۔انہوں نے اسد الدین اویسی سے سوال کیا کہ آیااسد اویسی اس بات کا جواب دے سکتے ہیں کہ وہ کیوں نریندر مودی کے دورہ سے قبل اور ان کے دورہ آسٹریلیاء کے دوران آسٹریلیاء میں موجود تھے !عمران پرتاپ گڑھی نے کہا کہ آگ کو پانی کا خوف ہونا چاہئے اسی طرح حیدرآباد کے عوام کو بھی اپنے قائدین کو بے خوف ہونے نہیں دینا چاہئے۔ انہوں نے بتایا کہ کرناٹک میں اقتدار کی تبدیلی نے ہی کٹرپسندوں کے نظریات کو تبدیل کردیا ہے اور وہ اب حکومت کے خوف سے کانپ رہے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی نے ملک میں ریاست اترکھنڈ کو نئی تجربہ گاہ بنا یا ہوا ہے۔ مسٹر مانک راؤ ٹھاکرے نے ملک میں نفرت کے ماحول کو فروغ دینے والی بھارتیہ جنتا پارٹی کا ساتھ دینے والی تمام طاقتوں کو ناکام بنانا ضروری ہے جو کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے اقتدار کے لئے راہیں ہموار کر رہی ہیں۔انہوں نے بتایا کہ بھارت راشٹرسمیتی نے جہاں کہیں بی جے پی کو ضرورت محسوس ہوئی اس کی مدد کرتے ہوئے بلوں کو منظور کروانے میں مدد کی ہے اور یہ بات سب پر عیاں ہے۔ جناب ناصر حسین نے اس اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھارت راشٹرسمیتی خاندانی سیاسی جماعت ہونے کے ساتھ ساتھ ایک بدعنوان سیاسی جماعت ہے اور اسے ریاست کے مسلمانوں کی کوئی فکر نہیں ہے۔ انہو ںنے بتایا کہ تلنگانہ میں مسلمانو ںکی ترقی کے نام پر ان سے محض وعدے کئے گئے ہیں اور عملی طور ان کی ترقی کے لئے کوئی اقدامات نہیں کئے گئے جو کہ بی آر ایس کی مسلمانوں سے جھوٹی محبت کا ثبوت ہے۔انہوں نے آبادی کے تناسب کے اعتبار سے بجٹ میں حصہ داری کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس نے ’’مسلم اعلامیہ ‘‘ کی اجرائی کی ہے جس پر اقتدار میں آنے کے ساتھ ہی عمل آوری کو یقینی بنایا جائے گا جبکہ تلنگانہ میں 10 سال سے حکومت کر رہی بی آر ایس 2لاکھ کروڑ سے زائد کا بجٹ رکھتے ہوئے مسلمانوں کو محض 2ہزار کروڑ کی تخصیص کو کارنامہ کے طور پر پیش کر رہی ہے۔ اس اجلاس میں شریک مولانا ڈاکٹر سید جہانگیر‘ جناب منیر الدین مجاہد‘ مولانا حسین شہید‘ مولانا شیخ ابوبکر حقانی ‘ جناب شفاعت اللہ خان ایڈوکیٹ‘ سابق ڈائریکٹر جنرل آف پولیس مسٹر سورنجیت سین ‘ جناب علی مسقطی ‘ جناب عامر جاوید‘ جناب جابر پٹیل ‘ جناب عتیق صدیقی خرم‘ جناب علیم خان فلکی ‘ پروفیسرسوسی تھرو‘ محترمہ ڈاکٹر فرحت فاطمہ ‘ کانگریس امیدوار جناب عثمان بن محمد الہاجری ‘ جناب فیروز خان‘ جناب شیخ اکبر‘ محترمہ پی وجیہ ریڈی کے علاوہ دیگر موجود تھے۔ اجلاس میں موجود شرکاء نے کانگریس قائدین سے مختلف سوالات کرتے ہوئے ان سے اقتدار حاصل ہونے پر اقلیتوں کی ترقی کے متعلق منصوبہ پر جواب دینے کی خواہش کی ۔ اجلاس کے شرکاء نے ریاست میں جاری مسلمانوں کے ساتھ ناانصافیوں کے باوجود ریاست میں امن و امان کے حوالہ سے استفسار کیا کہ آیا کانگریس اقتدار حاصل کرنے کے بعد تلنگانہ میں امن وامان کی برقراری کے علاوہ ترقی کی رفتار میں اضافہ کیا جائے گا!علاوہ ازیں اس اجلاس میں پرانے شہر میں میٹرو ریل کے کاموں کو نظر انداز کئے جانے علاوہ فوری طور پر پہلی تا انٹرمیڈیٹ تعلیم حاصل کرنے والے مسلم طلبہ کے لئے خصوصی تعلیمی وظائف کی اجرائی کے اقدامات کا مطالبہ کیا گیا۔