اقلیتی طلبا تو امریکہ و برطانیہ پہونچ گئے

   

مقروض ماں باپ اسکالر شپ کی رقم کے انتظار میں
حیدرآباد 3 جنوری(سیاست نیوز) تلنگانہ حکومت کی جانب سے بیرون ملک تعلیم پانے والے اقلیتی طلباء و طالبات کو ’چیف منسٹر اوورسیز اسکالرشپس ‘ تعلیمی سال 2020اور 2021 میں منظور کی گئی تھی انہیں اب تک رقم نہ ملنے کی شکایات کے دوران محکمہ اقلیتی بہبود سے 2022 اگسٹ تاڈسمبر بیرون ملک جامعات میں داخلہ پانے والے اقلیتی طلبہ سے درخواستیں لینے کا عمل شروع کیا گیا ۔ حکومت کی جانب سے سال 2020اور2021کے دوران منظورہ اوورسیز اسکالر شپس سے متعلق استفسار پر کہا جا رہاہے کہ ان طلبا کو اسکالرشپس کی اجرائی یقینی بنائی جا رہی ہے جو 10تا20 فیصد رشوت عہدیداروںکو دینے تیار ہیں۔ ڈائرکٹر محکمہ اقلیتی بہبود کے دفتر میں دو سال قبل اوورسیز اسکالر شپس معاملہ میں دھاندلیوں کے الزام میں ایک ملازم کو معطل کردیا گیا تھا لیکن بعد ازاں معطلی کو برخواست کردیا گیا لیکن اس کی جگہ جس شخص کو ذمہ داری تفویض کی گئی ہے وہ خود بھی ان سرگرمیوں میں ملوث ہے بلکہ ڈی ایم ڈبلیو او کے دفتر سے ہی یہ سرگرمیاں عروج پر ہیں اور ملازمین من مانی حصہ حاصل کرکے رقومات کی اجرائی کروانے میں کامیاب ہو رہے ہیں اور بیشتر طلبہ جنہیں ایس ایم ایس سے اطلاع ملی ہے کہ حکومت نے ان کی اسکالر شپس کو منظوری دے دی ہے اور ان کی رقومات کھاتہ میں منتقل کی جائیں گی لیکن کھاتہ میں رقم موصول نہ ہونے سے پریشان حال والدین جب ڈی ایم ڈبلیو او یا ڈائرکٹر مائیناریٹی ویلفیر کے دفتر پہنچ رہے ہیں تو انہیں 10تا20 فیصد ادائیگی کیلئے آمادہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور ان سرگرمیوں کیلئے عہدیداروں اور ملازمین کی جانب سے درمیانی افراد کا سہارا لیا جا رہاہے جو ان پریشان حال والدین کا استحصال کررہے ہیں۔ حکومت سے 20 لاکھ کی اسکالر شپ حاصل ہونے کی صورت میں 3تا 5 لاکھ روپئے کی ادائیگی کیلئے جو لوگ درخواست گذاروں کو آمادہ کرر ہے ہیں ان کے تار کہاں تک جڑے ہیں اس بات سے واقف ہونے کے بعد ہی ایک ملازم کی معطلی عمل میں لائی گئی تھی لیکن چند یوم بعد اس معطلی کو برخواست کردیا گیا لیکن اوورسیز اسکالر شپس کی اجرائی کیلئے طریقہ کار اب بھی وہی ہے۔ ڈائرکٹر محکمہ اقلیتی بہبود کی جانب سے 2022 اگسٹ تا ڈسمبر داخلہ پانے والے طلبہ کیلئے اسکالر شپس کی اجرائی کیلئے درخواستوں کی وصولی کا عمل تو شروع کردیا گیا لیکن جاریہ سال کے ابتدائی 6ماہ کے دوران وصول کی گئی درخواستوں کے علاوہ گذشتہ دو برسوں کی درخواستوں میں کئی طلبہ اب بھی اسکالر شپس کی وصولی کے منتظر ہیں۔م