نیویارک : اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہا ہے کہ کثیر الجہتی تعاون” کا خیال اقوام متحدہ کے وجود کی اہم وجوہات میں سے ایک ہے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے کثیر الجہتی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کے لئے اقدامات کیے جانے چاہئیں۔انتونیو گوتریس نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی امن و سلامتی کو برقرار رکھنے کے حصے کے طور پر “کثیر الجہتی نفاذ، عالمی نظام کو بہتر بنانا اور اصلاحات کرنا شامل ہے۔انتونیو گوتریس نے ستمبر میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے منظور کیے گئیاقوام متحدہ کے قیام کے 80 سال گزرجانے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انتونیو گوتریس نے اس بات پر زور دیا کہ یہ ادارہ “دوسری جنگ عظیم کی راکھ سے ابھرا” اور اس کا مقصد تیسری عالمی جنگ کو روکنے کے لئے اٹھائے گئے اقدامات سے تشکیل پایا۔انتونیو گوتریس نے اپنی تقریر میں کہا کہ ہم بین الاقوامی تعاون کے لیے تیار ہیں لیکن سافٹ ویئر کو اپ ڈیٹ کرنے کی ضرورت ہے۔انہوںنے یہ بھی کہا کہ جیسا کہ یہ کونسل اچھی طرح جانتی ہے مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے لے کر یوکرین تک، سوڈان سے جمہوریہ کونگو اور اس سے بھی آگے امن کو اس سے بھی زیادہ ناقابل رسائی مقام پر دھکیلا جا رہا ہے۔