الور: راجستھان کے الور میںدلت نابالغہ کیس میں پولیس کے رویے اوراس معاملے میں ضلع کلکٹر سے ملنے گئیں طالبات کے ساتھ کئے گئے سلوک کے پیش نظر راشٹریہ لول تانترک پارٹی (آرایل پی) کے یوامورچہ نے ضلع کلکٹر رہائش گاہ کا آج یہاں گھیراؤ کیا۔دلت نابالغہ واقعہ کو عصمت دری کا واقعہ نہ ہونے کے بات سامنے آنے کے بعد سے ہی الورکے طلبہ وطالبات کی تنظیموں اورسیاستدانوں میں زبردست غصہ ہے اور اتوار کو ایم پی ہنومان بینیوال کی پارٹی آرایل پی کے یوامورچہ کے ضلع صدر سندیپ اولا کی قیادت میں ضلع کلکٹر کی رہائش گاہ کا گھیراؤ کیا جو تقریباً دوگھنٹے تک جاری رہا۔ ضلع کلکٹر کی جانب سے اس معاملے میں مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) سے تحقیقات کے مطالبہ کی بات حکومت کے پاس بھیجنے اورلڑکیوں کو تحفظ کی یقین دہانی کے بعد گھیراؤ ختم کیا گیا۔اس سے پہلے موقع پر موجود اے ڈی ایم سنیتا پنکج اور ایس ڈی ایم پیارے لال کو تنظیم کی جانب سے میمورنڈم دیا گیا۔اس موقع پر اولا نے کہا کہ پولیس سپرنٹنڈنٹ کا یہ بیان غیر ذمہ دارانہ ہے کہ لڑکی کی عصمت دری نہیں ہوئی بلکہ حادثہ ہوا ہے ۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت اس معاملے میں سمت کو گمراہ کر رہی ہے ۔ آخر وہ کون سا دباؤ ہے جس سے اس معاملے کو پلٹاجا رہا ہے ۔ پولیس اپنی ناکامی چھپانا چاہتی ہے ۔انہوں نے کلکٹر کے بیان کی مذمت کی اور الزام لگاتے ہوئے کہا لڑکیوں کو دھمکیاں دینے سے کچھ نہیں ہوگا۔ اپنی ناکامی چھپانے کے لیے ایسی حرکت نہیں کرنی چاہیے ۔ اس واقعے میں نوجوان متاثرہ کو انصاف دلانے کے لیے مضبوطی سے کھڑا ہے ۔