واشنگٹن : کیپٹل پولیس کے مطابق مظاہرین نے احتجاج کے دوران سپریم کورٹ کے باہر ٹریفک کو بلاک کیا جنہیں گرفتاری سے قبل تین مرتبہ وارننگ بھی دی گئی تھی۔کیپٹل پولیس کے مطابق مظاہرین نے احتجاج کے دوران سپریم کورٹ کے باہر ٹریفک کو بلاک کیا جنہیں گرفتاری سے قبل تین مرتبہ وارننگ بھی دی گئی تھی۔ امریکہ کی ڈیموکریٹک قانون ساز الہان عمر سمیت 17 ارکان کو اسقاطِ حمل کے سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف احتجاج کرنے پر گرفتار کر لیا گیا ہے۔خواتین کے اسقاطِ حمل سے متعلق سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے کے خلاف امریکہ بھر میں مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے اور ان مظاہروں میں ڈیموکریٹک پارٹی کے حامی پیش پیش ہیں۔خبر رساں ادارے ‘اے ایف پی’ کے مطابق منگل کو سپریم کورٹ کے باہر احتجاج کرنے پر کانگریس کے 17 ارکان سمیت 35 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔کیپٹل پولیس نے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ مظاہرین نے احتجاج کے دوران سپریم کورٹ کے باہر ٹریفک کو بلاک کیا تھا جنہیں گرفتاری سے قبل تین مرتبہ وارننگ بھی دی گئی تھی۔کیپٹل پولیس کے مطابق سپریم کورٹ کے باہر ہجوم اکٹھا کرنے، رکاوٹیں کھڑی کرنے اور لوگوں کو مشکلات میں مبتلا کرنے کے الزام میں مجموعی طور پر 35 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے جن میں کانگریس کے 17 ارکان بھی شامل ہیں۔جہاں ملک میں کئی ریاستوں میں ابارشن پر پابندی یا تو لگائی جا چکی ہے یا اس کی تیاری کی جا رہی ہے وہیں ملک بھر میں خواتین مسلسل احتجاج کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔