خرطوم میں لڑائی کے آثار کم ہوتے نظر نہیں آتے ، فریقین پر سوڈانی قوم کے مفادات کو مدنظر رکھنے پر زور
واشنگٹن / ریاض : امریکہ اور سعودی حکومتوں نے آپس میں برسر پیکار سوڈانی فوج اور ریپڈ سپورٹ فورسز کے درمیان براہ راست مذاکرات جدہ میں شروع ہونے کی تصدیق کی ہے حالانکہ سوڈانی دارالحکومت میں لڑائی کے آثار کم ہوتے نظر نہیں آ رہے۔رپورٹ کے مطابق امریکہ اور سعودی عرب کے ایک مشترکہ بیان میں مذاکرات سے قبل بات چیت کے آغاز کا خیرمقدم کیا گیا اور لڑائی کو روکنے کے حوالے سے عالمی حمایت کی بھی یقین دہانی کرائی۔بیان میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب اور امریکہ نے دونوں نے فریقیں پر زور دیا کہ وہ سوڈانی قوم اور اس کے عوام کے مفادات کو مدنظر رکھیں اور جنگ بندی کے قیام اور تنازعہ کے خاتمے کے لیے مذاکرات کا حصہ بنیں۔فوج کی قیادت کرنے والے سوڈان کے لیڈر عبدالفتاح البرہان اور ریپڈ سپورٹ فورسز کی قیادت کرنے والے ان کے نائب و حریف محمد حمدان ڈگلو کی فورسز کے درمیان تقریباً تین ہفتوں سے جاری لڑائی میں سیکڑوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔15 اپریل کو لڑائی شروع ہونے کے بعد سے متعدد مرتبہ جنگ بندی کا عزم ظاہر کیا گیا لیکن ہر مرتبہ اس کی پاسداری نہیں کی گئی۔فوج نے جمعہ کو دیر گئے اس بات کی تصدیق کی کہ اس نے اپنے پیراملٹری دشمنوں کے ساتھ توسیعی جنگ بندی کی تفصیلات پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے اپنے ایلچی سعودی عرب بھیجے ہیں۔عبدالفتاح البرہان نے چہارشنبہ کو جنوبی سوڈان کی طرف سے اعلان کردہ 7 روزہ جنگ بندی کی حمایت کی تھی لیکن جمعہ کے اوائل میں ریپڈ سپورٹ فورسز نے کہا کہ وہ امریکی۔سعودی ثالثی کے تحت ہونے والی سابقہ جنگ بندی میں تین دن کی توسیع کر رہے ہیں۔امریکہ اور سعودی عرب کے بیان میں اس ہفتے کے اواخر میں ہونے والے مذاکرات کے پس پردہ دوسرے ممالک اور تنظیموں کی کوششوں کا ذکر کیا گیا، جن میں برطانیہ، متحدہ عرب امارات، عرب ریاستوں کی لیگ، افریقی یونین اور دیگر گروپ شامل ہیں۔خرطوم میں عینی شاہدین نے ہوائی اڈے کے قریب سمیت مسلسل ہوائی حملوں اور دھماکوں کی اطلاع دی، امریکی صدر جو بائیڈن کی جانب سے سوڈان کے امن، سلامتی اور استحکام کو خطرے میں ڈالنے اور سوڈان کی جمہوری منتقلی کے عمل کو نقصان پہنچانے کے ذمہ دار عناصر کے خلاف پابندیوں کی دھمکی کے باوجود لڑائی جاری ہے۔شمال افریقی ملک سوڈان کو اس سے قبل مطلق العنان عمر البشیر کے دور میں کئی دہائیوں کی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا تھا جہاں عمر البشیر کو 2019 میں بڑے پیمانے پر ہونے والے مظاہروں کے بعد محل میں ہونے والی بغاوت کے نتیجے میں معزول کر دیا گیا تھا۔جو بائیڈن نے کہا تھا کہ سوڈان میں ہونے والا تشدد ایک بڑا سانحہ ہے اور یہ سوڈانی عوام کے سویلین حکومت اور جمہوریت کی جانب منتقلی کے واضح مطالبے سے غداری ہے، اس کا خاتمہ ہونا چاہیے۔اس تصادم کے حوالے سے جمع شدہ اعداد و شمار کے مطابق تنازع میں اب تک تقریباً 700 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔اقوام متحدہ کے بچوں کے ادارے یونیسیف نے خبردار کیا تھا کہ سوڈان کی صورتحال خوفناک حد تک بچوں کی ایک بڑی تعداد کے لیے مہلک بن چکی ہے۔