ایران کو خطرہ پرخطہ کی کوئی بھی بندرگاہ محفوظ نہیںہو گی: پاسداران انقلاب‘ چین سمیت کئی ممالک نے بھی مخالفت کردی
بیجنگ ؍ واشنگٹن۔13؍اپریل ( ایجنسیز ) امریکہ کی جانب سے آبنائے ہر مز کی ناکہ بندی پر سمندر میں جنگ کا خطرہ منڈلا رہا ہے ۔اطلاعات کے مطابق ہندوستانی وقت کے مطابق رات 7:30 بجے سے امریکہ نے ناکہ بندی شروع کردی ہے ۔ ایران کے فوجی ترجمان نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایرانی بندرگاہوں کو کسی بھی قسم کا خطرہ لاحق ہوا تو خطے کی کوئی بھی بندرگاہ محفوظ نہیں رہے گی جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ایرانی افواج کے ترجمان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ خلیجی بندرگاہیں یا تو سب کے لیے محفوظ ہوں گی یا کسی کیلئے نہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ایران اپنے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ممکن قدم اٹھائے گا اور اگر اس کی بندرگاہوں یا بحری راستوں کو نشانہ بنایا گیا تو اس کے اثرات پورے خطے پر پڑیں گے۔ دوسری طرف امریکہ کے صدر ٹرمپ کی جانب سے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کے اعلان پر چین نے کھل کر مخالفت کرتے ہوئے اسے خطہ میں کشیدگی بڑھانے والا اقدام قرار دیا ہے۔چین کے وزیر دفاع ڈونگ جن نے اپنے بیان میں کہا کہ چین کے ایران کے ساتھ اہم تجارتی اور توانائی کے معاہدے موجود ہیںجن کا احترام کیا جائے گا۔انہوں نے امریکہ کو خبردار کیا کہ چین اپنے مفادات کا تحفظ کرے گا اور دیگر ممالک سے بھی توقع رکھتا ہے کہ وہ ان معاملات میں مداخلت نہ کریں۔ایڈمرل ڈونگ جون کے مطابق آبنائے ہرمز ایران کے کنٹرول میں ہے اور یہ چین کیلئے کھلی ہے جبکہ چینی بحری جہاز اس راستے سے معمول کے مطابق گزر رہے ہیں۔دوسری جانب چینی وزارت خارجہ نے بھی اپنے بیان میں کہا کہ اس اہم آبی گزرگاہ کو محفوظ، مستحکم اور بلا رکاوٹ رکھنا عالمی برادری کے مشترکہ مفاد میں ہے۔ چین نے اس بات کا اعادہ کیا کہ وہ توانائی کی فراہمی کے تسلسل کیلئے تمام فریقین کے ساتھ تعاون جاری رکھے گا۔چین نے اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے مذاکرات کو مثبت پیش رفت قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ فریقین جنگ بندی کی پاسداری کریں گے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات اٹھائیں گے۔ادھر برطانیہ اور آسٹریلیا نے بھی آبنائے ہرمز کی ممکنہ ناکہ بندی کی مخالفت کی ہے جبکہ ترکی اور جاپان نے تنازعہ کو سفارتکاری کے ذریعے حل کرنے پر زور دیا ہے۔ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز عالمی تیل کی ترسیل کا ایک اہم ترین راستہ ہے اور یہاں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی معیشت اور توانائی کی منڈیوں پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔بین الاقوامی پانیوں میں جہازوں پر امریکی پابندیاں غیرقانونی ہیں اور یہ عمل بحری قزاقی کے مترادف ہے۔ H/A