امریکہ کی مزید پانچ ایرانی عہدیداروں پر پابندی

   

واشنگٹن : امریکہ نے پیر کے روز ایران کے چار اعلیٰ عہدیداروں پر پابندیاں عائد کی ہیں جن کے بارے میں اس کا کہنا ہے کہ وہ گزشتہ سال تہران کی اخلاقی پولیس کے خلاف ان مظاہروں کو وحشیانہ طور پر کچلنے کے ذمہ دار ہیں جو حجاب نہ پہننے کے باعث حراست میں لی گئی ایک نوجوان خاتون کی گرفتاری اور ہلاکت کی وجہ سے ہوئے تھے۔امریکہ نے ایک پانچویں اہلکار پر بھی پابندی عائد کی ہے جس کے بارے میں کہا گیا ہے کہ اس نے ایک مقبول آن لائن نیوز سائٹس کو بلاک کر دیا ہے اور صحافیوں اور مخالفوں کی جاسوسی کی ہے۔محکمہ خزانہ کی یہ کارروائی اس کے بعد سے گیارہویں مرتبہ ہوئی ہے جب امریکہ نے 22 سالہ مہسا امینی کی گزشتہ ستمبر میں ہلاکت سے منسلک ایرانی اہل کاروں کو بلیک لسٹ کیا تھا۔ یہ اقدام برطانیہ کے ساتھ ہم آہنگ تھا ، جس نے ایران کے سینئر حکام کے خلاف اسی طرح کی پابندیاں عائد کیں۔کئی سو ایرانی مظاہرین سڑکوں پر ہونے والے مظاہروں میں ہلاک ہو چکے ہیں، ان کے ساتھ بہت کم تعداد میں سیکیورٹی ایجنٹس اور پولیس اہل کار بھی شامل تھے۔