امریکہ کے ساتھ مذاکرات کا فیصلہ ہو تو روس کو مطلع کیا جائے گا :ایران

   

ماسکو 4 اپریل (یو این آئی۔ اسپوتنک ) ایران نے کہا ہے کہ اگر وہ امریکہ کے ساتھ جنگ بندی کیلئے کسی طرح کے مذاکرات کا فیصلہ کرتا ہے تو وہ اپنے دوست ممالک، بشمول روس کو اس تعلق سے ضرور مطلع کرے گا۔ماسکو میں ایک ایرانی سفارتی ذریعے کے مطابق، اگر ایران امریکہ کے ساتھ بات چیت کا فیصلہ کرتا ہے تو وہ اپنے دوستوں، خاص طور پر روس کو اس تعلق سے ضرور اطلاع کرے گا۔ذرائع نے یہ بھی کہا کہ ایران اس معاملے میں روس کے ساتھ مکمل شفافیت برقرار رکھنے کے لیے تیار ہے ۔اس سے قبل صدر امریکہ ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان مثبت بات چیت ہوئی ہے ، تاہم ایرانی وزارتِ خارجہ نے براہِ راست مذاکرات کی تردید کی۔ البتہ اس نے یہ تسلیم کیا کہ اسے ثالثوں کے ذریعے امریکہ کی جانب سے بات چیت شروع کرنے کے پیغامات موصول ہوئے ہیں تاکہ تنازعہ کو ختم کیا جا سکے ۔یاد رہے کہ 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے مختلف مقامات، بشمول تہران، پر حملے کیے تھے ، جس کے نتیجے میں جانی و مالی نقصان ہوا۔ اس کے جواب میں ایران نے اسرائیلی علاقوں اور مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔

بوشہر جوہری پلانٹ پر حملے کے سنگین نتائج ہوں گے ، ایران کا انتباہ
تہران، 4 اپریل (یواین آئی) ایران نے ایک بار پھر امریکہ اور اسرائیل کو خبردار کیا ہے کہ بوشہر کے جوہری پلانٹ کو نشانہ بنانے کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے ۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے مغربی ممالک پر دوہرے معیار کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ یوکرین کے جوہری پلانٹس کے معاملے پر سخت ردعمل دینے والے ممالک ایران کی جوہری تنصیبات پر حملوں پر خاموش ہیں ۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ یوکرین کے زاپوریژیا جوہری بجلی گھر کے قریب جھڑپوں پر عالمی سطح پر شدید ردعمل سامنے آیا، لیکن ایران کے بوشہر جوہری پلانٹ پر مبینہ حملوں پر کوئی مؤثر آواز نہیں اٹھائی گئی۔انہوں نے الزام لگایا کہ امریکہ اور اسرائیل متعدد بار بوشہر پلانٹ کو نشانہ بنا چکے ہیں، مگر عالمی برادری نے اس پر وہ توجہ نہیں دی جو یوکرین کے معاملے میں دیکھی گئی تھی۔ایرانی وزیر خارجہ نے خبردار کیا کہ اگر کسی جوہری تنصیب کو نقصان پہنچا تو اس کے نتیجے میں ہونے والی تابکاری کے اثرات صرف تہران تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ خلیجی تعاون کونسل کے دارالحکومتوں تک پھیل سکتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ایران کی پیٹروکیمیکل تنصیبات پر حملے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ مخالفین کے اصل مقاصد کیا ہیں۔واضح رہے کہ زاپوریژیا جوہری بجلی گھر یورپ کا سب سے بڑا جوہری پلانٹ ہے اور روس یوکرین جنگ کے دوران اس کے حوالے سے عالمی سطح پر مسلسل تشویش کا اظہار کیا جاتا رہا ہے ۔