اب درد کے سہہ لینے کی طاقت بھی نہیں ہے
اظہار اذیت کی اجازت بھی نہیں ہے
امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر جنگ مسلط کئے جانے کے بعد ایران نے جو پلٹ وار کیا ہے اور جو جوابی کارروائیاں کی ہیں انہوں نے سارے مشرق وسطی کو دہلا کر رکھ دیا ہے ۔ یہ حقیقت ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ طاقت کے سامنے ایران کی طاقت بہت کم ہے بلکہ نہ ہونے کے برابر ہے تاہم ایران نے جس حوصلے کا مظاہرہ کیا ہے وہ قابل تعریف ہے ۔ یہ جانتے کہ ہوئے کہ اسرائیل اور امریکہ باطل طاقتیں ہیں کئی ممالک نے ان کا سہارا اور مدد لینے سے گریز نہیں کیا ہے اور اپنی حفاظت کو یقینی بنانے اقدامات کرتے رہتے ہیں۔ تاہم جہاں تک ایران کا سوال ہے اس نے یہ حقیقت جانتے ہوئے کہ اس کے پاس طاقت اتنی نہیں ہے جتنی ان ظالموں کے مقابلہ کیلئے درکار ہے اس کے باوجود ان کے آگے جھکنے اور ان کی بالادستی کو تسلیم کرنے سے گریز کیا اور دنیا بھر کو یہ پیام دیا کہ حق پر رہتے ہوئے طاقت کے آگے جھکا نہیں جاسکتا ۔ بھلے ہی جو نقصان ہونا ہے وہ ہو جائے تاہم باطل کو تسلیم نہیں کیا جاسکتا ۔ دوسری جانب جن عرب ممالک نے اپنے تحفظ کی ضمانت سمجھتے ہوئے امریکہ سے دوستی کی تھی ۔ امریکہ کو اپنے پاس بلایا تھا ۔ اپنے ممالک میں امریکی فوجی اڈے قائم کرنے کی اجازت دی تھی ۔ یہ اپنے لئے باعث اعزاز سمجھتے تھے ۔ اپنے حدود میں داخلی قوانین کی بالائے طاق رکھتے ہوئے امریکی افواج کو ہر طرح کی اجازت دی گئی تھی ۔ یہ سمجھا گیا تھا کہ امریکہ کے فوجی اڈے اگر ان کے ملک میں قائم ہوتے ہیں تو یہ ان کے تحفظ کی ضمانت ہوگی ۔ تاہم ایران نے اسرائیل اور امریکہ کے حملوں میں جوابی کارروائی کرتے ہوئے یہ واضح کردیا کہ خلیجی اور علاقائی ممالک کیلئے امریکہ سے دوسری تحفظ کی ضمانت ہرگز نہیں ہوسکتی ۔ کم طاقت رکھنے والا ملک ایران بھی انہیں اور ان تنصیبات کو بھی نشانہ بناسکتا ہے جن کو وہ اپنے تحفظ کی ضمانت سمجھتے ہیں۔ جو فوجی اڈے طاقت کا مرکز سمجھے جاتے تھے انہیں کو ایران نے اپنے جوابی حملوں کا نشانہ بنایا ہے اور اس تاثر کو ملیا میٹ کردیا ہے کہ امریکی فوج کی موجودگی ان ممالک کی حفاظت اور سلامتی کی ضمانت فراہم کرسکتی ہے ۔
جس طرح سے علاقہ کے تقریبا تمام ممالک نے ایران کو امریکہ اور اسرائیل کی جارحیت کے سامنے تنہا چھوڑ دیا ہے بلکہ اس کے خلاف اقدامات کر رہے ہیں وہ قابل افسوس ہے ۔ ان ممالک کا یہ احساس تھا کہ ان کے پاس وہ طاقت نہیں ہے جس کے بل پر وہ اسرائیل کی جارحیت کا مقابلہ کرسکیں۔ اسی لئے انہوں نے کئی خطرات سے نمٹنے کیلئے خود میں صلاحیت اور حوصلہ پیدا کرنے کی بجائے امریکہ پر انحصار کیا ۔ امریکہ نے بتدریج ان کا اعتماد حاصل کیا ۔ وہاںفوجی اڈے قائم کئے اورا ب انہیں کے زور پر ان تمام ممالک کو اسرائیل کے تلوے چاٹنے کیلئے مجبور کردیا ۔ اب امریکہ اور اسرائیل ہی ملک کر انہیں ایران کے خلاف استعمال کر رہے ہیں اور وہ کامیابی کے ساتھ مسلم ممالک کے اتحاد میں دراڑ ڈال چکے ہیں۔ پہلے ہی یہ کوئی مضبوط اتحاد نہیں تھا تاہم اس کے امکانات کو بھی اسرائیل اور امریکہ نے ملک کر ختم ہی کردیا ہے ۔ علاقہ میں اب جو صورتحال پیدا ہوئی ہے وہ عرب ممالک کی آنکھیں کھولنے کیلئے کافی ہیں۔ امریکی فوج کے جو ٹھکانے تھے ان ہی کو ایران نے نشانہ بنایا اور نقصان پہونچاتے ہوئے یہ ثابت کردیا کہ امریکہ کی دوستی یا امریکی فوج کی موجودگی ان کے تحفظ کی ضمانت نہیں ہوسکتی ۔ ان ممالک کو دوسروں اور خاص طور پر یہود و نصاری پر انحصار کرنے کی بجائے اپنی صفوں کو مستحکم اورمضبوط کرنے پر کام کرنا چاہئے ۔ اپنی صفوںمیں اتحاد پیدا کرتے ہوئے مخالفین پر اثر انداز ہوا جاسکتا ہے اور انہیں خوفزدہ بھی کیا جاسکتا ہے ۔
یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ یہود و نصاری کبھی بھی مسلمانوں کے دوست نہیں ہوسکتے اور عرب ممالک ان ہی کو اپنا دوست سمجھ بیٹھے ہیں۔ انہیں اپنی اس خام خیالی سے باہر نکلنے کی ضرورت ہے اور مسلم و عرب ممالک کا اتحاد ناٹو کی طرز پر بنایا جانا چاہئے ۔ انہیں اب اپنی حصار سے باہر نکلنے کی ضرورت ہے ۔ اس خام خیالی کو ترک کردینے کی ضرورت ہے کہ مشکل وقت میں امریکہ ان کا محافظ ہوسکتا ہے ۔ انہیں خود میں طاقت اور جذبہ پیدا کرنے کی ضرورت ہوگی اور جب تک دوسروں پر انحصار کیا جاتا رہے گا اس وقت تک دوسرے ان کا استحصال کرتے رہیں گے اور عرب ممالک مزید مجبور ہوتے چلے جائیں گے ۔