’’ امیتابھ بچن نام رکھ لینے سے کیا میں امیتابھ بچن بن جاؤں گا؟ ‘‘

   

بی جے پی سے کے ٹی آر کا سوال ، حیدرآباد کے نام سے الرجی اور مسلمانوں کے نام سے نفرت کیوں

حیدرآباد۔ٹی آر ایس کے کارگذار صدر کے ٹی راما راؤ نے حیدرآباد کے نام کو بدل کر بھاگیہ نگر رکھنے سے متعلق بی جے پی کے اعلان کو مضحکہ خیز قرار دیا اور سوال کیا کہ نام کی تبدیلی سے کیا فرق پڑ جائے گا۔ انہوں نے رئیل اسٹیٹ سمٹ 2020 سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی حیدرآباد کا نام بدلنے کی بات کررہی ہے اس سے کیا فرق پڑنے والا ہے۔ میں اپنا نام امیتابھ بچن رکھ لوں گا تو کیا اس سے میں امیتابھ بچن بن جاؤں گا ؟ کے ٹی آر نے کہا کہ بی جے پی کو آخر مسلم ناموں سے نفرت کیوں ہے ۔ بی جے پی نے احمد آباد کا نام تبدیل کرنے کا اعلان کیا تھا لیکن آج تک یہ نام تبدیل نہیں کیا جاسکا۔ احمد آباد کے نام میں احمد کی شمولیت پر بی جے پی کو اتنی الرجی کیوں ہے۔ اسی طرح حیدرآباد کے نام میں حیدر کے شامل ہونے سے بی جے پی کو نفرت کیوں ؟ ایک مذہب کے ماننے والوں سے بی جے پی کو اس قدر الرجی کیوں ہے۔ ہندوستان میں 30 کروڑ مسلمان بستے ہیں اُن پر بی جے پی کو اتنا غصہ کیوں ہے۔ اگر حیدرآباد کا نام بھاگیہ نگر رکھ دیا جائے تو کیا یہ شہر دوسرے دن صبح گولڈ سٹی میں تبدیل ہوجائے گا؟ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ بی جے پی کے فرقہ وارانہ ایجنڈہ سے چوکس رہیں۔ انہوں نے عوام سے کہا کہ وہ اس بات کا فیصلہ کریں کہ انہیں نام تبدیل کرنے والا چاہیئے یا حالات بدلنے والا۔ نیم چینجر سے زیادہ گیم چینجر کی اہمیت ہوتی ہے اور ٹی آر ایس گیم چینجر ہے اور جو حیدرآباد کو عالمی سطح کے شہر میں تبدیل کرنے کا نہ صرف عزم رکھتی ہے بلکہ اس نے عملی اقدامات شروع کئے ہیں۔ کے ٹی آر نے کہا کہ فرقہ وارانہ ایجنڈہ اور اشتعال انگیز تقاریر پر مبنی سیاست تلنگانہ کو زیب نہیں دیتی۔ اگر عوام مذہبی بنیادوں پر آپس میں لڑتے رہیں تو کوئی سرمایہ دار کیسے آئے گا۔ انہوں نے کہا کہ ریاست اور شہر مستقل ہیں اور اگر مذہبی بنیاد پر عوام کو تقسیم کردیا جائے تو کون اس کی نگہبانی کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ نفرت پر مبنی مہم سے عوام اُلجھن کا شکار ہیں۔ عوام اور نوجوانوں کو ہندو اور مسلم کی باتوں سے متاثر ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ تلنگانہ جدوجہد اور پھر علحدہ ریاست کی تشکیل کے بعد ہم نے کبھی بھی اپنا توازن نہیں کھویا اور کبھی بھی تقسیم کرنے والے ایجنڈہ کو اختیار نہیں کیا اور نہ ہی کسی مذہب کے ساتھ جانبداری کی۔ بی جے پی نے نہ صرف تلنگانہ بلکہ آندھرا پردیش کے ساتھ دھوکہ کیا ہے۔