چیف منسٹر کی منظوری کے بعد جی او کی اجرائی، کم از کم 45 ہزار اور زیادہ سے زیادہ 1.60 لاکھ فیس مقرر
حیدرآباد ۔ 8 اکٹوبر (سیاست نیوز) جاریہ تعلیمی سال انجینئرنگ کی فیس میں اضافہ ہورہا ہے۔ بی ٹیک کی کم از کم سالانہ فیس 45 ہزار اور سے زیادہ سے زیادہ 1.60 لاکھ روپئے مقرر ہونے کا قوی امکان ہے۔ سب سے زیادہ ایم بی آئی ٹی کالج کی فیس 1.60 لاکھ روپئے ہے۔ اس کے بعد سی وی آر کالج کی فیس 1.50 لاکھ روپئے وردھامان کالج کی فیس 1.40 لاکھ روپئے مقرر ہونے کے امکانات ہیں۔ تلنگانہ اڈمیشن اینڈ فیس ریگولیٹری کمیٹی (ٹی اے ایف آر سی) نے کالجس انتظامیہ سے مشاورت کرنے کے بعد فیس کا تعین کرتے ہوئے منظوری کیلئے رپورٹ محکمہ تعلیم کے سکریٹری کو روانہ کردی ہے۔ ریاست میں جملہ 173 انجینئرنگ کالجس ہیں۔ ضلع نلگنڈہ کے سوامی رامانند ترتھا کالج نے اس مرتبہ فیس پر نظرثانی کیلئے درخواست نہیں دی۔ ماباقی 172 کالجس کے فیس کا تعین کرتے ہوئے ٹی اے ایف آر سی نے رپورٹ حکومت کو پیش کردی ہے۔ ان میں 30 کالجس کی فیس ایک لاکھ سے زائد ہے۔ 60 سے زائد کالجس کی کم از کم فیس 45 ہزار روپئے ہونے کی اطلاعات ہیں۔ چیف منسٹر کے سی آر کی جانب سے منظوری حاصل ہونے پر سکریٹری محکمہ تعلیم وی کرونا ان فیسیس کو مقرر کرتے ہوئے جی او جاری کرتے ہیں اور ان فیسیس پر 2022-25ء تک عمل آوری ہوگی۔ پہلے سے جاری کردہ شیڈول کے مطابق 11 اکٹوبر سے انجینئرنگ میں داخلوں کیلئے دوسرے مرحلہ کی کونسلنگ کا آغاز ہوگا۔ امید کی جارہی ہیکہ ایک دو دن میں حکومت کی جانب سے جی او جاری کیا جائے گا بصورت دیگر دوسرے مرحلہ کی کونسلنگ آگے بھی بڑھ سکتی ہے۔ تاہم عہدیداروں کا کہنا ہیکہ ایمسیٹ کی تیسرے مرحلہ کی کونسلنگ، رپورٹنگ اور اسپاٹ اڈمیشن کا مرحلہ ختم ہونے کے 10 دن بعد مقرر کردہ فیس متعلقہ کالجس کو منتقل کئے جائیں گے لہٰذا طلبہ کو الجھن کا شکار ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ طلبہ سے داخلوں کے دوران قدیم فیس ہی وصول کی جائے گی۔ حکومت کی جانب سے جاری کردہ جی او کے مطابق فیس میں اضافہ ہونے پر طلبہ سے اضافی رقم وصول کی جائے گی۔ فیس کم ہونے پر طلبہ کو رقم لوٹا دی جائے گی۔ یہ تمام عمل ایمسیٹ اڈمیشن کنوینر کی نگرانی میں ہوگا۔ن