انسانی جانوں کو بچانے کیلئے عطیات ناگزیر

   


ضرورت مند مریض کو خون عطیہ کرنا صدقہ جاریہ ، آج بارکس میں بلڈ ڈونیشن کیمپ
حیدرآباد۔ یکم اکٹوبر (راست) جشن میلادالنبی ﷺ کے پرمسرت موقع پر بستی بارکس میں دوسرا حبائب میلاد بلڈ ڈونیشن کیمپ 2 اکٹوبر بروز اتوار صبح 7 تا 5بجے شام عبود جعیدی فنکشن ہال بارکس منعقد ہوگا ۔ کیمپ کا افتتاح شیخ المقرئین حافظ و قاری علی بن عبدالرحمن بصراوی امام و خطیب جامع مسجد بارکس فرمائیں گے جبکہ اس کیمپ کی نگرانی حضرت حبیب عمر بن عبداللہ العطاس المعروف حبیب فاروق العطاس کریں گے ۔ کنوینر کیمپ حبیب ابوبکر بن عبدالرحمن الحامد ایڈوکیٹ ، آرگنائیزرس حافظ شیخ احمد بن صالح باوزیر، الحاج مرزا کریم بیگ قادری و حبیب محمد بن عبداللہ رفیع ہیں جبکہ محمد زبیر قادری شطاری کوآرڈینیٹر کیمپ ہے ۔ نگران کیمپ حبیب فاروق العطاس ، کنوینر حبیب ابوبکر الحامد، حافظ شیخ احمد بن صالح باوزیر، الحاج مرزا کریم بیگ قادری و حبیب محمد بن عبداللہ رفیع (حبیب جانی) و دیگر نے کہا کہ قیمتی انسانی جانوں کو بچانے کیلئے خون کے عطیات انتہائی اہم اور ضروری ہیں۔ایک سال میں 4 مرتبہ، جب کہ عورت 3 مرتبہ عطیہ دے سکتی ہے۔ جس کا کوئی نقصان نہیں فائدے بے شمار ہیں۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ خون کا عطیہ ضرور د ینا چاہیے۔ اس سے صحت پر کسی قسم کے منفی اثرات مرتب نہیں ہوتے بلکہ خون کا عطیہ دینے والے افراد زیادہ صحتمند رہتے ہیں۔ خون عطیہ کرنے میں جتنا خون لیا جاتا ہے، اس کی کمی انسانی جسم تین دن میں پوری کرلیتا ہے، جبکہ خون کے خلیات 56 دن میں مکمل طور پر دوبارہ بن جاتے ہیں۔ خون کے یہ نئے خلیات، پرانے خلیوں سے زیادہ صحتمند اور طاقتور ہوتے ہیں جو انسان کو کئی امراض سے بچاتے ہیں۔ایک تحقیق کے مطابق رضاکارانہ طور پر خون کا عطیہ کرنے والے افراد میں مختلف امراض سے موت کا خطرہ کم ہوجاتا ہے اور اوسط عمر میں چار سال تک کا اضافہ ہوتا ہے۔ آرگنائیزرس و ذمہ داران نے تمام خون کا عطیہ دینے کے اہل افراد سے گزارش کی کہ وہ 2 اکٹوبرکو عبود جعیدی فنکشن ہال تشریف لائیں اور خون کا عطیہ دیں۔ کیونکہ آپ کے ایک خون کی بوتل سے 3 انسانی جانیں بچتی ہیں۔ اگر آپ کے خون سے کسی ایک انسان کی جان بچتی ہے تو جب تک اس انسان کی رگوں میں آپ کا خون دوڑتا رہے گا آپ کو ثواب ملتا رہے گا۔