انقرہ میں افغان سفارتی مشن کا خاتمہ

   

انقرہ : ترکیہ نے افغان سفارت کاروں کے مشن کے خاتمہ کا اعلان کیا ہے۔ ان کا تقرر افغانستان کی سابق مغرب نواز حکومت نے کیا تھا۔ سبکدوش ہونے والی افغان سفارتی ٹیم کے مطابق اس طرح طالبان سفارت کاروں کی تقرری کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔ جمعہ سات فروری کو انقرہ سے موصولہ خبر رساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹ کے مطابق ترکی نے افغان سفارت کاروں کے مشن کو ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس مشن میں افغانستان کی سابق مغرب نواز حکومت کی طرف سے مقرر کیے گئے سفارتکار شامل تھے۔ ترکی سے روانہ ہونے والی ٹیم نے ایکس پر ایک پیغام میں کہا کہ اس نے سفارتخانے کو جمعرات کو ترک وزارت خارجہ کے حوالے کر دیا۔ اس بیان میں کہا گیا ہے کہ ترکی کا یہ فیصلہ کابل میں طالبان حکومت کی طرف سے ترک حکام اور افغان مشن میں شامل سفارت کاروں پر دباؤ کے تحت کیا گیا۔ تاہم انقرہ میں حکام کی جانب سے فوری طور پر کوئی بیان سامنے نہیں آیا۔ یہ طالبان کی ایک اور سفارتی کامیابی ہے، جو بیرون ملک سفارت خانوں اور قونصل خانوں کا کنٹرول حاصل کر رہے ہیں اور ترکی کے اس فیصلے کے بعد ایسے سفارتی مشنوں کی تعداد اب 40 سے زیادہ ہو گئی ہے۔ سفارت خانہ چھوڑنے والی ٹیم کے بیان میں مزید کہا گیا کہ ترکی نے یہ فیصلہ کابل میں اپنے سفارت خانے اور مزار شریف اور ہرات میں قونصل خانے کھلے رکھنے کے لیے بھی کیا ہے۔