پرچہ سوالات کے حل میں مشکلات، امتحان ہال میں وال کلاک بھی موجود نہیں
حیدرآباد 9 مارچ (سیاست نیوز) انٹرمیڈیٹ امتحانات کا ریاستی میں آغاز ہوچکا ہے اور فرسٹ اور سیکنڈ ایئر کے امتحانات کا سلسلہ 25 مارچ تک جاری رہے گا۔ بورڈ آف انٹرمیڈیٹ ایجوکیشن نے امتحانات کے مؤثر انداز میں انعقاد کو یقینی بنانے اور نقل نویسی کے واقعات کو روکنے کے لئے امیدواروں پر کئی پابندیاں عائد کی ہیں۔ امتحانی مراکز پر سی سی ٹی وی کیمروں سے نظر رکھی جارہی ہے جس کا ہر گوشہ نے خیرمقدم کیا ہے۔ اس کے علاوہ امیدواروں کو الیکٹرانک آلات بشمول واچ (گھڑی) ساتھ رکھنے کی اجازت نہیں ہے۔ امیدواروں کا کہنا ہے کہ امتحان ہال میں الیکٹرانک آلات پر پابندی قابل قبول ہے لیکن گھڑی کے استعمال کو روکنے سے اُنھیں امتحان کے وقت کے تعین اور تمام سوالات کے جواب دینے میں دشواریوں کا سامنا ہے۔ بورڈ آف انٹرمیڈیٹ ایجوکیشن نے امتحانی مراکز میں وال کلاک کے انتظام کا وعدہ کیا تھا لیکن کئی مراکز میں وال کلاک موجود نہیں ہے جس کے نتیجہ میں وقت کا اندازہ کرنے میں امیدواروں کو دشواری پیش آرہی ہے۔ سیکنڈ ایئر کے طالب علم سید شیراز بخشی نے کہا ہے کہ اگر امیدوار کے پاس گھڑی ہو تو وہ مقررہ وقت میں سوالات کے جواب دینے کی حکمت عملی بخوبی طے کرسکتا ہے۔ امیدوار کو اِس بات کا پتہ نہیں چلتا کہ کتنا وقت باقی ہے۔ عام طور پر امتحان ہال میں موجود انویجلیٹر سے دریافت کیا جارہا ہے۔ امیدواروں کا کہنا ہے کہ بورڈ آف انٹرمیڈیٹ کو واچ پر پابندی سے دستبرداری اختیار کرنی چاہئے کیوں کہ گھڑی سے نقل نویسی کا کوئی تعلق نہیں۔ امیدواروں کے پاس گھڑی ہوگی تو وہ باقی وقت کا اندازہ کرتے ہوئے اہم سوالات کے جوابات تحریر کرسکتے ہیں۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ امیدوار مکمل پرچہ کو حل کرنے سے قاصر رہتے ہیں کہ اچانک وقت ختم ہوجانے کی گھنٹی بجائی جاتی ہے۔ امتحانی مراکز پر بورڈ آف انٹرمیڈیٹ نے ہر 30 منٹ میں گھنٹی بجانے کی ہدایت دی ہے تاکہ امیدوار وقت کا تعین کرسکیں۔ بتایا جاتا ہے کہ بیشتر امتحانی مراکز میں ہر نصف گھنٹے میں گھنٹی بجانے کا نظم نہیں ہے اور اگر گھنٹی بجتی بھی ہے تو امیدوار امتحان لکھنے میں اِس قدر منہمک ہوتے ہیں کہ اُس جانب توجہ نہیں دے پاتے۔ 1