جکارتہ : انڈونیشیا میں “G20 وزرائے خزانہ اور مرکزی بینک کے گورنرز کی میٹنگ” 24 فروری کو شروع ہونے والی یوکرین۔روس جنگ کے سائے میں منعقد ہوئی۔بالی جزیرے میں منعقدہ G20 سربراہی اجلاس کے دائرہ کار میں وزرائے خزانہ اور مرکزی بینک کے گورنرز اکٹھے ہوئے۔انڈونیشیا کے وزیر خزانہ سری مولانی اندراوتی نے کہا کہ تمام شرکاء کا خیال ہے کہ جغرافیائی سیاسی کشیدگی کی وجہ سے میٹنگ میں بڑی مشکل صورتِ حالا کا سامنا کرنا پڑا ہے۔اندراوتی نے کہا کہ ابھی بھی ایسے مسائل ہیں جن پر اتفاق نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ شرکاء “جنگ پر اپنے خیالات کی وضاحت کرنا چاہتے تھے۔انہوں نے روسی ایندھن کی قیمتوں پر غور نہیں کیا گیا۔ انہوں نے اپنا جائزہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کو اس وقت بہت زیادہ تعاون کی ضرورت ہے، چاہے تعاون کرنے والا کوئی ہی ملک کیوں نہ ہو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ کوئی بھی ملک تنہا اس مسئلے کو حل نہیں کر سکتا۔ خوراک کی حفاظت، توانائی، موسمیاتی تبدیلی، وبا، یہ سب ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ ہم سب اس بات پر متفق ہیں کہ ہمیں اس مسئلے کو تعاون اور کثیرالجہتی جذبے کے تحت حل کرنے کی ضرورت ہے۔