انکاؤنٹر میں سیلف لوڈنگ رائفل سے ملزمین کو ہلاک کیا گیا

   

قومی انسانی حقوق کمیشن کی ابتدائی تحقیقات میں انکشاف کے بعد اُلجھن

حیدرآباد ۔ /10 ڈسمبر (سیاست نیوز) دیشا قتل کیس میں ملوث خاطیوں کے انکاؤنٹر کا معاملہ پولیس کیلئے الجھن کا سبب بن گیا ہے ۔ قومی انسانی حقوق کمیشن اور دیگر تحقیقاتی اداروں کی ابتدائی تحقیقات میں یہ ظاہر ہوا ہے کہ پولیس تحویل میں موجود 4 ملزمین کو انکاؤنٹر میں ہلاک کرنے کیلئے پولیس نے ایس ایل آر بندوقوں (سیلف لوڈنگ رائفل) کا استعمال کیا گیا ۔ جمعہ کی صبح دیشا قتل کیس کے ملزمین محمد عارف ، جلو شیوا ، جلو نوین اور سی ایچ چناکیشولو کو پولیس نے شادنگر کے چٹان پلی ویلیج کی جھاڑیوں میں اُس وقت انکاؤنٹر کردیا تھا جب مقتول وٹرنری ڈاکٹر کا موبائیل فون ، پاور بینک اور گھڑی برآمد کرنے کیلئے پولیس نے انہیں مقام واردات پر لے گئی تھی ۔ اس انکاؤنٹر معاملہ میں پولیس نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ مقام واردات پر تحقیقات کیلئے لے جائے جانے کے دوران خاطیوں نے پولیس پارٹی پر پتھروں سے حملہ کیا اور بعد ازاں ان کے پستول چھین لئے اور پولیس پر فائرنگ کردی ۔ جوابی کارروائی میں پو لیس نے ایس ایل آر رائفلس کا استعمال کئے جانے کی اطلاع ہے ۔ اس کارروائی میں محمد عارف پر 4 راؤنڈ فائر کئے گئے جبکہ دیگر پر دو راؤنڈ فائر کئے گئے ۔ انسانی حقوق کمیشن کی ایک ٹیم نے نعشوں کا معائنہ کیا اور اس سلسلے میں ایک رپورٹ بھی تیار کی جارہی ہے جبکہ سائبر آباد پولیس بھی اس معاملہ پر تفصیلی رپورٹ تیار کرتے ہوئے انسانی حقوق کمیشن کو پیش کرنے والی ہے ۔ واضح رہے کہ تلنگانہ ہائیکورٹ نے چاروں خاطیوں کی نعشوں کو /13 ڈسمبر تک محفوظ کرنے کی ہدایت دی ہے جس کے نتیجہ میں نعشوں کو گاندھی ہاسپٹل کے مردہ خانہ میں محفوظ کردیا گیا ہے ۔