کولکاتا: طلبا لیڈر انیس خان قتل کیس میں پولس کی غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے اے جی سومیندر ناتھ مکھرجی نے کہا کہ انیس خان کی موت نہ قتل کا نتیجہ ہے اور نہ ہی انہوں نے خودکشی کی ہے بلکہ پولس کی لاپرواہی کی وجہ سے انیس خان کی موت ہوئی ہے ۔پولس کا مقصد انیس خان کا قتل کرنا نہیں تھا اس کے علاوہ انہوں نے کہا کہ انیس خان کو جس انداز سے گرفتار کرنے کی کوشش کی گئی وہ بھی غلط تھا۔ ایڈیشنل جنرل مکھرجی نے کہا کہ انیس خان کی پہلی پوسٹ مارٹم رپورٹ اور دوسری پوسٹ مارٹم رپورٹ میں کوئی خاص فرق نہیں ہے ۔ان کے جسم میں زخم کے نشانات نہیں تھے ۔اے جی نے کہا کہ پوسٹ مارٹم یا فرانزک تحقیقات میں انیس خان کے دم گھٹنے کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔ اے جی نے کہا کہ انیس خان پوسکو کیس میں ملوث تھا۔ انہوں نے کہا کہ انیس خان کو معلوم تھا کہ پولس انہیں گرفتار کرنے آرہی ہے ۔اس لئے وہ گھر کے تیسری منزل سے کودنے کی کوشش کی۔تاہم جسٹس راج شیکھرا منتھانے اے جی سے سوال کیا کہ انیس کی موت کے بعد پولس نے خاموشی کیوں اختیار کی؟اس کے علاوہ اس معاملے میں سینئر پولس افسران سے پوچھ تاچھ نہیں کئے جانے پر بھی عدالت نے سوال کھڑا کیاہے۔