اومی کرون کو معتدل سمجھنے کی غلطی نہ کی جائے ۔ ویرینٹ مہلک ہے

   

متاثرین کو شریک دواخانہ کرنے کی شرح میں اضافہ ۔ اموات میں اضافہ کا بھی اندیشہ ۔ عالمی تنظیم صحت کا انتباہ

حیدرآباد۔8 جنوری (سیاست نیوز) کورونا کی نئی قسم اومی کرون کو معتدل نہ سمجھا جائے کیونکہ یہ دنیا بھر میں مہلک ثابت ہورہا ہے اور متاثرین کی بڑی تعداد کو دواخانہ میں شریک کرنا پڑرہا ہے۔ جنوبی افریقہ میں اومی کرون متاثرین کی تعداد میں اضافہ اور اسی رفتار سے کمی سے دنیابھر کے صحت کے ادارو ںکی جانب سے اومی کرون کو معتدل اور غیر مہلک قرار دیا جاتا رہا ہے لیکن عالمی ادارۂ صحت سے کہا جارہا تھا کہ اومی کرون کے حقیقی اثرات منظر عام پر آنے کم از کم 45یوم درکار ہوں گے اور اب جبکہ 40یوم گذرچکے ہیں تو سنگین صورتحال منظر عام پر آنے لگی ہے۔ عالمی ادارۂ صحت نے تمام ممالک کو انتباہ جاری کیا اور مشورہ دیا کہ وہ اومی کرون کو معتدل تصور نہ کریں کیونکہ کورونا کی نئی قسم میں بھی اب دواخانہ میں شریک کرنے کا سلسلہ تیزی کے ساتھ بڑھنے لگا ہے اور سابق میں وائرس کے متاثرین جس طرح سے فوت ہورہے تھے اسی طرح یہ قسم بھی انسانی جانوں کے تلف ہونے کا سبب بن رہی ہے۔ عالمی ادارہ ٔ صحت کی جانب سے امریکہ کی صورتحال اور امریکہ میں 10لاکھ مریضوں کے بعد کہا گیا ہے کہ نئی قسم کے سنگین نتائج اب برآمد ہونے لگے ہیں اسی لئے کوتاہی کے بغیر سخت احتیاط سے کام لیا جانا ضروری ہے۔ کورونا کی نئی قسم کے متعلق ماہرین کا کہناہے کہ ابتداء میں جب نشاندہی ہوئی اور تیز رفتار پھیلاؤ کو دیکھا گیا تو اسی وقت بعض محققین نے یہ کہا تھا کہ وائرس کی یہ قسم سنگین ہوسکتی ہے اور دنیا بھر میں نظام صحت کو درہم برہم کر سکتی ہے لیکن اومی کرون متاثرین کے صحت یاب ہونے کو دیکھتے ہوئے ماہرین کی رائے تبدیل ہوئی تھی لیکن وہ خدشات کا شکار تھے اور اب ان خدشات کی توثیق ہونے لگی ۔ کہا جا رہاہے کہ اومی کرون متاثرین کی بڑی تعداد کو دواخانوں میں شریک کرنے کی ضرورت پیش آرہی ہے اور آئندہ دنوں کے دوران شرح اموات میں بھی اضافہ ہوسکتا ہے۔ عالمی ادارۂ صحت نے توثیق کردی کہ اومی کرون عالمی وباء کورونا کی خطرناک قسم ثابت ہوسکتی ہے اور احتیاط کا تقاضہ یہی ہے کہ عوام میں شعور بیدار کرنے کے علاوہ حقیقی صورتحال و خطرات سے واقف کرواتے ہوئے انہیں ماسک کے استعمال اور سماجی فاصلہ کو یقینی بنانے آمادہ کریں۔ اومی کرون اب تک مہلک ثابت نہ ہونے کی مختلف وجوہات پر ماہرین نے کہا کہ جو صورتحال ہے اس کے بجائے جو حالات ہونے جا رہے ہیں ان پر توجہ مرکوز کرنی چاہئے اور احتیاطی اقدامات کئے جانے چاہئے ۔ م